گیس تنازعہ، اعلیٰ سفارتی رابطے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یوکرائن اور روس کے درمیان جاری گیس نرخوں کے تنازعے کے یورپ پر پڑنے والے اثرات کے بعد مصالحت کے لیے اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطے شروع کر دیے گئے ہیں۔ روس نے اس سلسلے میں گزشتہ روز یوکرین پر گیس چوری کرنے کا الزام لگایا اور کہا تھا کہ اس کی وجہ سے یورپی ملکوں کو ملنے والی گیس کے مقدار میں کمی آ رہی ہے۔ تاہم اب روس نے یورپ کے لیے گیس کی مقدار بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ یوکرین نے روس کے الزام کی تردید کی ہے۔ اس تنازعے کے نتیجے میں ہنگری اور پولینڈ یورپ کے وہ پہلے ملک ہیں جن کوگیس کی فراہمی میں تعطل کا سامنا ہے۔ امریکہ پہلے ہی اس تنازعے پر مایوسی کا اظہار کر چکا ہے اور یورپی یونین کے لیے خارجہ پالیسی کے سربراہ ہاوئر سولانہ کا کہنا ہے کہ بات چیت کے سوا اس مسئلے کو حل کرنے کا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ اس تنازعے کے باعث کئی یورپی ملکوں کو بھی گیس کی فراہمی میں کمی آئی ہے۔ جرمنی اور فرانس بھی روسی گیس کے بڑے صارفین میں سے ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کے ہاں صارفین اس کے اثرات نہیں پڑیں گے۔ البتہ جرمنی نے کہا ہے کہ کچھ عرصے بعد گیس کے استعمال پر پابندی لگ سکتی ہے۔ اب اطلاعات ہیں کہ ہنگری اور پولینڈ کے علاوہ فرانس، جرمنی اور سلواکیہ میں بھی گیس کی ترسیل میں کمی آ گئی ہے۔ روس اور یوکرائن کے درمیان گیس کی قیمتوں میں اضافے کے معاملے پر ہونے والے تنازعے کے بعد روس کی سرکاری گیس کمپنی گیزپرام نے یوکرائن کو گیس کی فراہمی روک دی تھی۔ گیس کی سپلائی روک دینے کا کام دونوں ممالک کے درمیان قیمتوں میں اضافے کے معاہدے کو سلجھانے کے لیے مقرر کی گئی ڈیڈ لائن کے پورے ہونے کے بعد عمل میں لایا گیا۔ | اسی بارے میں روسی گیس: تنازع سنگین ہو سکتا ہے02 January, 2006 | آس پاس یوکرائن کوگیس سپلائی رک گئی01 January, 2006 | آس پاس روس جارجیا سےفوج نکالنے پر تیار31 May, 2005 | آس پاس روسی آبدوز کو بچا لیا گیا06 August, 2005 | آس پاس روس: شام پر پابندیاں ناقابل قبول27 October, 2005 | آس پاس ایران کے لیے روسی میزائل 06 December, 2005 | آس پاس سابق روسی وزیر روس کے حوالے31 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||