روس جارجیا سےفوج نکالنے پر تیار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کئی ماہ تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد روس اس بات پر رضا مند ہو گیا ہے کہ وہ ریاست جارجیا سے اپنی بقیہ فوجیں آئندہ تین برس کے اندر اندر نکال لے گا۔ ماسکو میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لیوروو اور سابق سوویت ریاست جارجیا کے وزیر خارجہ سلوم زرابِشوِلی کے درمیان مذاکرات کے بعد جارجیا سے روسی فوجوں کے انخلاء کا اعلان کیا گیا۔ جارجیا کے وزیر خارجہ نے اسے ایک اہم اور مثبت قدم قرار دیتے ہوئےکہا کہ جارجیا کا مقصد پورا ہوگیا۔ اس وقت بھی جارجیا میں سوویت دور کے دو فوجی اڈے موجود ہیں جن کی وجہ سے روس اور جارجیا میں کشیدگی رہی ہے۔ ان دونوں فوجی اڈوں میں تقریبًا تین ہزار روسی فوجی رہتے ہیں۔ اس سے پہلے روسی انخلاء کے بارے میں بات چیت ناکام ہوتی رہی ہے۔ جارجیا کی حکومت چاہتی تھی کہ روس دو ہزار آٹھ کی ابتدا میں یہ انخلاء مکمل کر لے لیکن روس کا اصرار تھا کہ اسے اپنی فوجیں واپس بلانے کے لیے چار سال چاہئیں۔ اس سال مارچ میں جارجیا کی پارلیمان نے مکمل اتفاق رائے سے ووٹ دیا کہ اگر روس یکم جنوری سن دو ہزار چھ تک جارجیا سے اپنی فوجیں واپس نہیں بلاتا تو جارجیا میں روسی فوجوں کی موجودگی کو غیر قانونی قرار دے دیا جائے۔ انہوں نے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ روسی فوجیوں کو جارجیا کے ویزے دینے بند کر دیے جائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||