| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
نینو برڈژناتزے عبوری صدر
جارجیا میں آنے والے ’مخملیں انقلاب‘ کے بعد ایڈورڈ شِوارڈ ناتزے مستٰعفی ہو گئے ہیں اور پارلیمان کی سپیکر نینو برڈژناتزے کو عبوری صدر بنادیا گیا ہے جو پینتالیس دن کے اندر ہونے والے نئے انتخابات تک ملک کی صدر رہیں گی۔ جارجیا میں آنے والی اس سیاسی تبدیلی کو مخملیں انقلاب کا نام دیا جارہا ہے جس میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے انتخابات میں دھاندلی پر احتجاج کرتے ہوے پارلیمان پر قبضہ کر لیا اور صدر ایڈورڈ شِوارڈناتزے کو مستعفی ہوجانے پر مجبور کر دیا۔ امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے جارجیا کی نئی صدر سے فون پر رابطہ کیا اور انہیں امریکی حمایت کی یقین دہانی کرائی۔ امریکی وزارتِ خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ امریکی وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ جارجیا کی نئی صدر جارجیا کے آئین کے مطابق اقدامت کریں گی۔ امریکہ بیان میں مستعفی ہونے والے صدر ایڈورڈ شِوارڈناتزے کو بھی خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اس بیان میں انہیں جارجیا کی سیاست میں ایک قد آور شخصیت اور امریکہ کا ایک دوست قرار دیا گیا۔ امریکہ سے دوستی کی وجہ سےجارجیا کو کئی سو ملین ڈالر کی امداد دے چکا ہے۔ ایڈورڈ شِواڈ ناتزے نے اپنے استعفیٰ کا اعلان روسی وزیر خارجہ ایگور ایوانوف کی جانب سے مذاکرات کے لئے مصالحت کی کوشش کے بعد حزب اختلاف کے ایک رہنما میخائل ساکاشویلی کے الٹی میٹم کے بعد کیا تھا۔ ان کے اس اعلان سے دارالحکومت تبلیسی میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور زبردست آتشبازی سے آسمان پر رنگ و نور کا ایک عجب سماں بندھ گیا۔ قومی ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے جارجیا کے صدر ایڈورڈ شِوارڈ ناتزے نے کہا ’بہتر ہے کہ صدر استعفیٰ دے دے۔ تاکہ یہ سب ختم ہوجائے۔ پر امن انداز میں اور خون بہے بغیر۔ کسی جانی نقصان کے بغیر۔۔۔‘ حزب اختلاف کے ایک رہنما میخائل ساکاشویلی نے دھمکی دی تھی کہ اگر صدر ایڈورڈ شِوارڈ ناتزے مستعفیٰ نہیں ہوئے تو صدارتی محل تک احتجاجی مارچ کیا جائے گا۔ اسی محل میں بالآخر صدر ایڈورڈ شِوارڈ ناتزےاور حزب اختلاف کے حامیوں کے درمیان روسی وزیر خارجہ ایگور ایوانوف کی مصالحت کی کوششوں کے بعد مذاکرات ہوئے تھے۔ جارجیا میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ صدر ایڈورڈ شِوارڈ ناتزے کے استعفیٰ کے پیچھے کارفرما عوامل میں سب سے زیادہ اہم فوج کی جانب سے ان کی حمایت سے دستبرداری کا دخل تھا۔ اس سے قبل صدر ایڈورڈ شِوارڈ ناتزے کا کہنا تھا کہ قبل از وقت صدارتی انتخابات کے انعقاد اور پارلیمانی انتخابات کے بھی ازسرنو انعقاد کے لئے تیار ہیں۔ اگرچہ صدر کا جہاز دارالحکومت تبلیسی میں تیار کھڑا ہے مگر حزب اختلاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ صدر ایڈورڈ شِوارڈ ناتزے کچھ وقت جارجیا ہی میں رہیں گے۔ شیورڈ ناتزے کا پہلے کہنا تھا کہ وہ اقتدار سے علیحدہ نہیں ہوں گے اور اگر پارلیمان نے ان کے ایمرجنسی نافذ کرنے کے حکم کی توثیق نہ کی تو وزارتِ داخلہ کے مسلح دستے کارروائی کریں گے۔ سنیچر کوجارجیا کے دارالحکومت تبلیسی میں اپوزیشن کے حامیوں نے پارلیمان پر دھاوا بولنے کے بعد اس عمارت پر بھی قبضہ کر لیا تھا جس میں صدر ایڈورڈ شِوارڈناتزے کے دفاتر واقع ہیں۔ گزشتہ ماہ کے متنازعہ انتخابات کے بعد صدر سنیچر کو پارلیمان کے اوّلین اجلاس سے خطاب کر رہے تھے کہ اپوزیشن کے بپھرے ہوئے حامی پارلیمانی عمارت کے دروازے توڑ کر اندر گھُس آئے۔ صدر کے ذاتی محافظ انہیں اپنے حصار میں لے کر عمارت سے باہر لے آئے۔ اس موقع پر صدر کے حامیوں نے پارلیمان پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا چاہا لیکن ہزاروں کی تعداد میں جمع ہو جانے والے مظاہرین نے ان کی ایک نہ چلنے دی اس شورش کو منظّم کرنے میں اپوزیشن کے لیڈر مِیخائل ساکشوِل پیش پیش ہیں جنہوں نے صدر سےاپیل کی تھی کہ وہ خون خرابے کے بغیر اقتدار سے الگ ہو جائیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||