جارجیا انقلاب: بش کیلیے مثالی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ جارجیا کے ’روز ریوولیوشن‘ نامی انقلاب نے یوکرین، عراق اور لبنان میں جمہوریت کے قیام کے لیے ایک مثال قائم کی ہے۔ مسٹر بش نے یہ تقریر تبلیسی کے آزادی اسکوئر میں کی جہاں جارجیا کے عوام نے پرانی حکومت کے خاتمے کا جشن منایا تھا۔ جارجیا میں کسی بھی امریکی رہنما کے اس پہلے دورے نے جارجیا کے صدر میخائل ساکاشولی کی مقبولیت میں اضافہ کیا ہے۔ مسٹر بش کی اس تقریر کو انکے یورپ اور روس کے دورے میں خاصی اہمیت دی جارہی ہے۔ انکی تقریر سے کئی گھنٹے قبل لوگ سکوائر میں جمع ہونا شروع ہوگئے تھے۔ ٹیلیوژن پر ایک بڑے ہجوم کو سکوائر میں آنے کے لیے پولیس کی رکاوٹوں کو روندتے ہوئے بھی دکھایا گیا۔
اس سے پہلے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں صدر میخائل سکاشولی نے صدر بش کو ایک دور اندیش رہنما قرار دیتے ہوئے ’روز ریوولیوشن‘ نامی انقلاب کی حمایت کرنے پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ یہ وہ انقلاب تھا جس کے نتیجے میں سابقہ صدر ایڈورڈ شیورڈناڈزے کی حکومت ختم ہوئی تھی۔ امریکہ میں تعلیم یافتہ صدر میخائل سکاشولی نے کہا کہ امریکہ سے زیادہ دنیا کا کوئی بھی ملک جارجیا سے قریب نہیں ہے جس نے جمہوری اقدار کے پھیلاؤ اور مضبوطی میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے جارجیا کی ناٹو میں شمولیت کے لیے امریکہ کی حمایت کا بھی شکریہ ادا کیا۔ مسٹر بش نے جارجیا کو اسکے علیحدہ ہوجانے والے علاقوں شمالی اوسیٹا اور ابخازیا سے اختلافات کے تصفیہ میں اپنی مدد کی پیشکش بھی کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||