 |  جارج بش اپنی اہلیہ لورا بش کے ساتھ برسلز پہنچنے پر |
جنگِ عراق کے بعد امریکہ اور یورپ کے تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے صدر جارج بش یورپ کے دورے پر ہیں۔ برسلز میں یورپی اور نیٹو کے رہنماؤں سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا ہے کہ اسرائیلی اور فلسطینیوں کے درمیان امن قریب ہے اور امریکہ اور یورپ اسرائیل اور فلسطین کو ایک جمہوری ریاست کی حیثیت سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ جارج بش نے یہ بھی کہا کہ عرب حکومتیں ’انتہاپسند تعلیم‘ کی حمایت بند کردیں اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر کریں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ، یورپ اور مشرق وسطیٰ کا مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات ملکوں کے اندر سے آنے چاہئیں اور مراکش، عراق اور افغانستان میں اصلاحات کے ثبوت دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے شام سے کہا کہ وہ لبنان پر اپنا قبضہ ختم کرے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ملکوں کا مفاد ایک آزاد اور جمہوری عراق میں ہے جس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں استحکام آئےگا۔ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ایران دہشت گردی کی حمایت بندکرے اور ایٹمی ہتھیار نہ بنائے۔ جارج بش نے کہا کہ امریکہ ایک مضبوط یورپی اتحاد کی حمایت کرتا ہے کیوں کہ اسے دنیا میں امن پھیلانے کے لئے ایک مضبوط پارٹنر کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کو یورپی اتحاد میں خیرمقدم کرنا چاہئے اور روسی کے پڑوسی ملک جارجیا کے بارے میں بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گرد آزادی کی مارچ کو روک نہیں سکتے۔ آپ کے خیال میں امریکہ اور یورپ کے حوالے سے دنیا کے تعلقات کیسے بدل رہے ہیں؟ یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
پہل بخش جونیجو، ٹھٹھہ: امریکہ اور یورپ عمومی طور پر تیسری دنیا اور خصوصاً مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ جمعہ خان، راوالپنڈئ: امریکہ مسلمانوں کو دعائیں دے جنہوں نے اسے بے تاج بادشاہ بنا دیا ہے کیونکہ مسلمانوں نے سوویت یونین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے۔ اب مسلمانوں کوبھولا کہوں یا ناعاقبت اندیش جنہوں نے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری۔ اشعر سلمان، پاکستان: طاقت مارتی ہے بھائی طاقت۔ جب کسی کے پاس طاقت آتی ہے تو وہ کسی کو نہیں چھوڑتا، بہت مشکل کام ہوتا ہے اپنے آپ کو ظلم سے روکنا۔ امریکہ کے پاس طاقت ہے اس لیے اب وہ اپنی ہر جائز ناجائز بات منوائے گا۔ اس کا صرف ایک حل کہ اکٹھے مریں یا اکٹھے جئیں۔ کم از کم آنے والوں کو نشانِ منزل تو ملے گا۔ ایران، شام اور پاکستان کو فوراً اتحاد بنالینا چاہیے پھر سارے ملم ممالک سعودیہ لے کر لیبیا تک ایک ہوجائیں گے۔ فیصل انعام، دوبئی: ساری دنیا کے لیے یہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ظاہری طور پر تو بش اور یورپ میں اختلافات ہیں لیکن درپردہ چاہتے سب اسلامی ممالک کی بربادی ہی ہیں۔ شاہدہ اکرم، ابوظہبی: امریکہ اور یورپ کے حوالے سے جس کسی کو بھی خطرہ ہے وہ بش کی ذات سے ہے۔ سب جانتہ ہیں کہ ان کے کہے ہوئے ایک لفظ سے کچھ بھی ہوسکتاہے لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ایک اور بھی ذات ہے۔ ’آزادی کی مارچ‘ جیسے الفاظ پڑھ کر جتنی تکلیف ہوئی اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ کیا آزادی اسی کو کہتے ہیں؟ کیا طاقت کا نشہ ایسا ہوتا ہے کہ ظلم آزادی نظر آنے لگتا ہے؟ سمجھ نہیں آتا کہ امریکیوں کو یہ احساس کب ہوگا؟ ڈاکٹر ناصر، اسلام آباد: امریکہ کو دوہری پالسیسی ترک کرنے کی ضرورت ہے اور یورپ کے ساتھ مل کر دنیا میں جمہوریت کے لیے کام کرنا چاہیے۔ انہیں مشرف اور دوسرے جرنیلوں کے ساتھ بھی وہی کرنا چاہیے جو وہ آمروں بشمول صدام حسین کے ساتھ کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں تاکہ پاکستان میں بھی عوام کی حکمرانی اور بالادستی قایم ہو اور یہ کام صرف امریکہ ہی کرسکتا ہے۔ خبار سندھی، سکھر: یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ اگر امریکہ تیسری دنیا کا کھلا دشمن ہے تو یورپ آہستہ آہستہ پھیلنے والا زہر۔ یہ تمام ایشیائی، افریقی اور لاطینی امریکہ کے لوگوں کے خلاف ہیں۔ محتشم صمدانی، جرمنی: اگر پچھلی پانچ دہائیوں پر نظر ڈالی جائے تو ایک بات بہت واضح ہے کہ امریکہ نے باقی دنیا کو اپنے مفادات کی خاطر صرف عدم استحکام دیا ہے۔ یورپی ممالک کو اگر سویت یونین کے ساتھ ہونے والی سرد جنگ کے علاوہ دیکھا جائے تو وہ خاصی حد تک غیرجانبدار نظر آتے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے سے ماسوائے برطانیہ کے یورپ بحیثیتِ نے مجموعی خاصی بالغ نظری کا ثبوت دیا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ حقیقی دنیا میں رہتے ہیں۔ چاہے عراق کا معاملہ، فلسطین ہو یا کیوٹو کا مسئلہ، یورپ نے کسی حد تک دنیا کی تعمیری انداز میں رہنمائی کی ہے۔ یورپ ایک حد تک حقیقی دنیا کو جانتا ہے جب کہ امریکہ اپنی باون ریاستوں کے علاوہ دنیا کو نہیں جانتا۔ باریک بینی سے دیکھیں تو یورپی لوگ دنیا کے مسائل کو جاننے لگے ہیں اور اس دنیا کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں۔ ان کا یکطرفہ طاقت اور یونی پولر دنیا کی مخالفت کرنا فطری عمل ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ امریکہ کے اپنے کچھ عزائم ہیں یا وہاں لوگ واقعی اتنے بھولے ہیں کہ عراق کے مسئلے پر عزت گنوانے اور کیوٹو پر بدنامی اٹھانے کو تیار ہیں اور ایران اور شام کے ساتھ مسلسل تناؤ کی کیفیت قائم رکھنے پر۔ ہوسکتا ہے کہ یورپ ان قبول نہ کرے کیونکہ وہ خواب و خیال کی دنیا میں نہیں رہتا۔ نوید نقوی، کراچی: بات صرف اتنی ہے کہ امریکہ پوری دنیا کو اپنے قابو میں کرنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے اس نے دنیا بھر میں اپنی سازشوں کا جال بچھا رکھا ہے۔ دنیا بھر میں اس کے ایجنٹ ہیں اور جہاں جہاں نہیں وہاں وہ پیدا کرنا چاہتا ہے جیسے عرب دنیا میں اسرائیل کا وجود۔ بش صاحب کا یورپ کا دورہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔  | بش ایک زبردست لیڈر ہیں  کوئی کچھ بھی کہے، ایسے ہی لوگ ہیں جو دنیا کے لیے نئی راہیں متعین کرتے ہیں۔ جو عملی طور پر کچھ نہیں کرتے صرف باتیں ہی کرتے رہ جاتے ہیں۔  محمود، جاپان |
محمود، جاپان: بش ایک زبردست لیڈر ہیں، وہ جو کہتے ہیں، کر دکھاتے ہیں۔ کوئی کچھ بھی کہے، ایسے ہی لوگ ہیں جو دنیا کے لیے نئی راہیں متعین کرتے ہیں۔ جو عملی طور پر کچھ نہیں کرتے صرف باتیں ہی کرتے رہ جاتے ہیں۔ لیکن تاریخ ان کی نہیں کام کرنے والوں کی ہوتی ہے۔ عمران ملک، پاکستان: بش صرف یورپ کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں تاکہ ایران پر حملہ کیا جا سکا۔ میری خواہش ہے کہ وہ اس میں ناکام رہیں۔ عامر رفیق، لندن: امریکہ کی نظر میں ہر وہ ملک دہشت گرد ہے جس سے اسرائیل کو خطرہ ہوسکتا ہے۔ امریکہ کے خیال میں تمام مسلمان ممالک اسرائیل کے لیے خطرہ ہیں اس لئے ایک ایک کرکے سب کی باری آئے گی اور مسلمان اس وقت تک مار کھاتے رہیں گے جب تک ظالموں کے خلاف ایک نہیں ہوجاتے۔ جاوید اقبال ملک، چکوال: جنابِ بش کس قدر خوبصورت انداز میں دنیا کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔ ایک طرف خود سینکڑوں بم بنا رکھے ہیں اور دوسری طرف مسلمان دنیا پر پابندیاں لگا رہے ہیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے؟ اجل سنشی، لاڑکانہ: بش صرف جنگ کی ہوس میں مبتلا ایک مغرور اور کم علم انسان ہیں اور اسی لیے جنگی مجرم ہیں۔ یورپ کے دورے کے بجائے انہیں دی ہیگ کی عالمی عدالت میں لانا چاہیے تاکہ ان پر مقدمہ چلایا جاسکے۔ لیکن بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟ سعید اختر، برطانیہ: وہ (بش) اپنے خیالات کے بارے میں بہت پراعتماد ہیں۔ انہوں نے صدام سے چھٹکارا حاصل کرنے کا فیصلہ کیا اور کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ اچھی بات نہیں تھی۔ صدام ایک جابر حکمران تھے جنہیں ہٹانے کی ضرورت تھی۔ جب بش کو تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے گا تو وہ عراق میں ایک عظیم روایت چھوڑ کر جانے والوں میں شمار ہوں گے اور وہ روایت ہے ایک جمہوری مستقبل کی۔ محمد زاہد خان، لاہور: محمد زاہد خان، لاہور: بش کا یہ دورہ ایک نئی جنگ کی تخلیق کرنے کے لیے کیا جارہا ہے جس میں یورپ کی ضرورت ہے۔ یہ جنگ مسلمانوں کے خلاف ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ یورپ بجائے ساتھ دینے کے اس پر امریکہ کی مذمت کرے۔ دوسری طرف تمام مسلمان مملک کو متحد ہونا چاہیے۔ جب ایک اسلامی ملک پر حملہ تمام عالمِ اسلام پر حملہ متصور کیا جائے گا تب ہی بش کا راستہ روکا جا سکتا ہے۔ یاسر نوید، آزاد کشمیر: پوری دنیا میں امریکہ کی پالیسیوں کے خلاف ایک فضا بن چکی ہے۔ سرمایہ داری نظام اپنے خاتمے کی طرف رواں ہے اور امریکہ اسے بچانے کی ناکام کوشش کررہا ہے۔ سرمایہ داری کا خاتمہ اور سوشلزم کی آمد ہی دنیا کو پرامن بناسکتی ہے۔
 | بش کامیاب ہوں گے  یورپ کا یہ دورہ ایک حد تک کامیاب ہوسکتا ہے۔ بڑے یورپی ممالک شام کے مسئلے پر امریکہ کے ساتھ ہیں جس کا صدر بش فائدہ اٹھائیں گے۔ پھر میرا خیال ہے کہ ایران پر پوری طرح وہ امریکہ کے ساتھ نہ بھی ہوں تو کچھ حد تک پابندیاں لگانے پر رضامند ہوجائیں گے۔  عمیر شاہ، نیویارک |
عمیر شاہ، نیویارک: مجھے لگتا ہے کہ یورپ کا یہ دورہ ایک حد تک کامیاب ہوسکتا ہے۔ بڑے یورپی ممالک شام کے مسئلے پر امریکہ کے ساتھ ہیں جس کا صدر بش فائدہ اٹھائیں گے۔ پھر میرا خیال ہے کہ ایران پر پوری طرح وہ امریکہ کے ساتھ نہ بھی ہوں تو کچھ حد تک پابندیاں لگانے پر رضامند ہوجائیں گے۔ پھر نیٹو کا معاہدہ اب اتنا فائدہ مند نہیں کہ یہ سوویت یونین کی وجہ سے کیا گیا تھا اور اب وہ کوئی خطرہ نہیں رہا۔ پھر میں سمجھتا ہوں کہ اس موقعہ پر چین سے جو ایک ابھرتی ہوئی معیشت ہے اور جس میں بہت سے صنعت کاروں نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے، اور یورپ سے تعلقات بہتر بنائے جائیں گے۔ مشکور اعوان، امریکہ: ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ امریکہ نے ہی بوسنیا اور کوساوو میں مسلمانوں کی نسل کشی کو روکا اور سب سے بڑھ کر اس دنیا کو طالبان جیسے نیم ملا، خطرہِ ایمان سے نجات دلائی۔ فتح عالم، فرانس: امریکہ اور بش کو اسلام دشمن کہنے والوں کو یہ نظر نہیں آتا کہ افغانستان اور عراق میں امریکی آمد سے قبل یہ ملک سوشلسٹ ممالک تھے مگر اب الحمداالہ دونوں ممالک میں شرعیت سرکاری مذہب کا درجہ اختیار کرتی جارہی ہے جبکہ فرانس میں مسلمان طالبات حجاب تک نہیں کرسکتی ہیں۔ سیاست تو ہاتھی کے دانتوں کی طرح ہوتی ہے کہ کھانے کے اور دکھانے کے اور۔ سیٹھ عبیدالرحمان، پاکستان: پچھلے تجربوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اسے اسی تسلسل کو جاری رکھنے کی کوشش کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ مقصد سیاسی اور معاشی استحکام ہی ہے جس میں ایک دوسرے کو مزید تحفظات فراہم کرنا ہے۔ ساتھ جسے دینا ہے وہ ہاں میں ہاں کرے تو اس کا ہی بھلا ہے۔ ارشد موسوی، ایران: شکست بش کی قسمت ہے اگر انہوں نے ایران پر حملے کی غلطی کی تو۔ یاور عباس خان، سویڈن: مشرقِ وسطیٰ میں اچانک تبدیلیاں، فلسطینی اسرائیلی معاہدہ، لبنان کی صورتِ حال اور اب یورپ کا دورہِ امن۔ یہ سب شام اور ایران پر حملے کی تیاریاں ہیں۔ وہ اس میں یورپ کو ساتھ ملانا چاہتے ہیں۔ آصف علی مزاری، پاکستان: صدر بش ہمیشہ درست کہتے ہیں۔ وہ اور وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر عظیم رہنما ہیں۔ جبل بلوچ، خضدار: بش دنیا میں دہشت پھیلا رہے ہیں۔ وہ یورپینز کو بے وقوف نہیں بنا سکتے کیونکہ وہ پاکستانی جرنیلوں جیسے نہیں ہیں جو ان کی کٹھ پتلی بنے رہیں۔ فریداللہ خان، ٹورنٹو: عظیم یورپی یونین کبھی بھی صدر بش پر بھروسہ نہیں کرے گی۔ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ امریکہ کو اپنے مفادات کے علاوہ کچھ عزیز نہیں۔ فرزانہ، دادو: میرا خیال ہے کہ بش انتظامیہ نے ایک ایسی جنگ شروع کرنے کی وجہ سے اپنا احترام کھوچکی ہے جس کی بنیاد ہی غلط بیانی پر تھی۔ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ یورپ کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی یہ کوشش بھی اتنا ہی بڑا جھوٹ ہے جتنی ان کی پچھلی پالیسیاں رہی ہیں۔ یورپین دل سے امریکہ کے خلاف نہیں ہیں لیکن یہ انتظامیہ کبھی بھی ان کا اعتماد حاصل نہ کرپائے گی۔ بش کے لیے میری واحد تجویز ہے کہ وہ قدیم پورپیوں کی بات سنیں اور اپنے گھمنڈ پر قابو پائیں۔ دو ہزار نو سے پہلے تعلقات بہتر ہونا مشکل ہے۔
 | پارٹنر نہیں چیلے  انہیں (امریکہ کو) پارٹنر کی نہیں، چیلوں کی ضرورت ہے تاکہ وہ اور قوموں پر بھی حملہ کرسکے۔ خدا ایسے رہنماوں کو دور اندیشی اور ٹہراؤ دے تاکہ وہ دنیا میں امن لاسکیں۔  آصف رفیق، لائبیریا |
آصف رفیق، لائبیریا: ہر رہنما اس طرح کی زبان لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ جب سے دنیا یکطرفہ طاقت کے قبضے میں آئی ہے صدر صاحب (بش) نے اس طرح کی تقاریر میں اضافہ کردیا ہے۔ انہیں (امریکہ کو) پارٹنر کی نہیں، چیلوں کی ضرورت ہے تاکہ وہ اور قوموں پر بھی حملہ کرسکے۔ خدا ایسے رہنماوں کو دور اندیشی اور ٹہراؤ دے تاکہ وہ دنیا میں امن لاسکیں۔ عراق اور افغانستان کی تباہی اور قتلِ عام ہر کوئی دیکھ سکتا ہے اور حقائق کو میٹھے بولوں اور اونچی آواز سے نہیں چھپایا جا سکتا۔ وقار ،پاکستان: صدر بش کا کہنا ہے کہ وہ امریکی قوم کے لیے ہر اس ملک سے جنگ کریں گے جو ان کے لیے خطرہ ہو لیکن وہ بھول رہے ہیں کہ مسلمانوں پر فتح حاصل کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ افغانستان اور عراق کے بعد اب ایران اور پاکستان دونوں ان کے لیے تباہی کے دہانے ثابت ہوں گے۔ یورپین بھی اسے درست نہیں سمجھتے اس لیے انہیں حکومتوں کی حمایت حاصل ہے مگر عوام کی نہیں۔ امین اللہ شاہ، میانوالی: یہ محض دھوکہ ہے۔ فلسطینی اسرائیلی معاہدہ بھی ایک دکھاوا ہے تاکہ لوگوں کا منہ بند ہوجائے۔ یہ سب ایران پر حملے کی تیاریاں ہیں۔ اسرائیل کے پاس ایران کی نسبت دس گنا زیادہ جوہری ہتھیار ہیں لیکن اسے کچھ نہیں کہا جارہا۔ فضل سبحان جان، ابوظہبی: بش کا دورہِ یورپ دنیا پر ایک نئی جنگ مسلط کرنے کی پیش بندی ہے۔ یہ ایران اور شام کے خلاف جنگ میں اپنے لیے حمایت تلاش کرنے اور جنگ کے جواز پر دنیا کو قائل کرنے کی ایک کوشش ہے۔ علی حیدری، ٹورنٹو: مزا تو تب ہے کہ امریکہ کل کی سپر پاور روس اور آنے والے کل کی سپر پاور چین کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے۔ زیدی قاسم، کینیڈا: امریکہ کی نیوکون حکومت سے دنیا کو بڑا خطرہ ہے۔ بش کے منہ سے نکلے ہوئے ہر الفاظ سے دنیا میں امن اور استحکام کو خطرہ ہے۔ یہ ایران، شام یا کسی دوسرے مسلم ملک کے خلاف ہے، یورپیوں کو فیصلہ کرنا ہوگا اور اس امریکی خطرے کے خلاف قدم اٹھانا ہوگا۔ وہ دنیا کو ایک طویل جنگ میں نہیں تبدیل کرنا چاہتے جو امریکہ اسٹارٹ کرنا چاہتا ہے۔ یورپیوں کو سمجھ میں آگیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل امن نہیں چاہتے۔۔۔۔۔ گل انقلابی سندھی، دادو: جو بھی بش کے ساتھ دوستی کرے گا اس کی دنیا کی ضمیر مذمت کرےگی۔ گریٹ یورپیوں کو یہ معلوم ہے۔ وہ پنجابی اور مہاجر نہیں جو سوپر بلی پر انحصار کرتے۔ گریٹ جرمن اور فرانسیسی رہنما پاکستانی ڈکٹیٹر کی طرح نہیں ہیں۔۔۔۔ شیر یار خان، سنگاپور: جارج بش کا یورپ کا دورہ عالمی امن اور استحکام کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اس دوران میں ان کے بیانات سے ظاہر ہورہا ہے کہ امریکہ کو یوپر اور مشرق وسطیٰ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر رکھنا کتنا ضروری ہے۔ معاشی طور پر یورپ کو اور امن و اسحتکام کے حوالے سے مشرق وسطیٰ کو نظرانداز کرنا امریکہ کو بہت نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ امریکہ ایک مضبوط یورپ کی اہمیت اپنی معاشی ترقی کے لئے کررہا ہے، نہ کہ امن کے لئے۔ دہشت گردی اور سیاسی انتہاپسندی کو روکنے کے لئے اب یورپ اور مشرق وسطیٰ کو مل کر کوشش کرنی چاہئے کیوں کہ امریکہ کی ہر کوشش کو یہ ممالک ایک دھمکی کے طور پر محسوس کرتے ہیں اور اس پر اپنا ردعمل اور سخت موقف سے ظاہر کرتے ہیں۔ دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے پارٹنر کی نہیں بلکہ مضبوط پلانر کی ضرورت ہے۔۔۔۔ سید الطاف حیدر، مردان: امریکہ یورپ کے ساتھ چاہے کام کرلے لیکن مستقبل میں حالات مختلف ہوں گے۔ میں آسانی سے دیکھ سکتا ہوں کہ امریکہ اور یورپ۔۔۔۔ (واضح نہیں) عارف جبار قریشی محمد عارف، سندھ: اسرائیل اور فلسطین میں امن فلسطینیوں کے شرائط پر ہونا چاہئے۔ امریکہ کے لئے آگے چل کر یوپر ہی خطرہ بنے گا۔ اس لئے امریکہ یورپ کو اہمیت دےرہا ہے۔ عراق میں جو جمہوریت ہے اس کو عراق کے عوام نہیں مانتے۔ شام، ایران، مشرق وسطیٰ کے معاملات میں امریکہ کی ہٹ دھرمی قابل مذمت ہے۔ امریکہ خود دہشت کی علامت بنا ہوا ہے۔ دوسرے ملکوں کے اندرونی معاملات میں امریکہ کو زیب نہیں دیتا، ہر انسان امن چاہتا ہے مگر امریکہ نے دنیا میں دہشت پھیلا رکھی ہے۔ |