بُش یورپ والوں کو راضی کریں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے صدر جارج بُش عراق کی جنگ سے پیدا ہونے والے اختلافات ختم کرنے کے لیے یورپ کا دورہ کر رہے ہیں۔ صدر بُش نے اپنے دورے پر روانہ ہونے سے قبل کہا کہ ’ اب ہمیں باہمی اختلافات ختم کر کے آگے بڑھنے کا وقت ہے‘۔ صدر بُش یورپی یونین کے اداروں کا دورہ کرنے والے پہلے امریکی صدر ہوں گے۔ وہ یورپ اور امریکہ کے تعلقات کے بارے میں خصوصی خطاب میں اپنے نظریات کا اظہار کریں گے۔ صدر بُش کی آمد پر بیلجیم میں زبردست حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ توقع کی جا رہی کہ دورے کے دوران ہزاروں افراد ان کے خلاف مظاہرہ کریں گے۔ اپنے دورے کےدوران صدر بُش جرمنی اور سلوواکیا بھی جائیں گے جہاں ان کی روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات ہو گی۔ اس کے علاوہ وہ برطانیہ کے وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور اپنی عراق پالیسی کی مخالفت کرنے والے فرانس کے صدر ژاک شیراک سے بھی ملیں گے۔ یورپی رہنماؤں سے ملاقات میں چین کو اسلحے کی فروخت، ایران کا جوہری پروگرام، مشرق وسطیٰ جیسے موضوعات پر بات چیت ہوگی۔ بی بی سی نیوز ویب سائٹ کے عالمی امور کے مدیر پال رینالڈز کے مطابق امریکہ اور یورپ کے درمیان خلیج دیکھتے ہوئے یہ مشکل معلوم ہوتا ہے کہ تمام موضوعات پر اختلافات ختم ہو جائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||