نزاعی امور پر بش، پیوتن بات چیت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپ میں دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کی ساٹھویں برس کی تقریبات کے موقع پر امریکی صدر جارج بش اور روسی صدر ولادیمیر پیوتن کے درمیان ملاقات میں کئی نزاعی مسائل پر بات چیت ہوئی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے بالٹک ریاستوں کے معاملے پر بھی گفتگو کی ہے اور جارجیا کے موضوع پر بھی جو چاہتا ہے کہ روس اس کے علاقے سے اپنے فوجی اڈے ہٹا دے۔ یورپ میں جنگ کے خاتمے کی بھرپور تقریب پیر کے روز ہو رہی ہے جس میں امریکی صدر بھی شریک ہوں گے۔ روس میں ہونے والی ایک پریڈ میں شامل ہونے والے وہ امریکہ کے پہلے صدر ہوں گے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوتن نے ایک دفعہ پھر اصرار کیا ہے کہ ساٹھ سال پہلے دنیا کو فاشزم سے بچانے والا ملک دراصل روس تھا۔ انہوں نے یہ بیان اس موقع پر دیا جب دنیا بھر سے رہنما پیر کو ماسکو میں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے اور یورپ میں نازیوں کی شکست کی ساٹھ سالہ تقریبات کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔ روسی صدر پیوتن نے کہا کہ روسی فوج نے تین سال تک نازیوں کا تقریباً اکیلے مقابلہ کیا اور جنگ کے نتائج کا نئے سرے سے جائزہ لینا روس کی بے عزتی کرنے کے مترادف ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوتن اور امریکی صدر جارج بش کے درمیان سنیچر سے دوسری جنگ عظیم کے بعد کی تاریخ پر بیان بازی جاری ہے۔ یہ بیان بازی تب شروع ہوئی جب ماسکو آنے سے پہلے سنیچر کو لیٹویا کے دورے کے دوران صدر بش نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد جہاں ایک طرف فاشزم کا خاتمہ ہوا وہیں مشرقی یورپ میں کمیونسٹ استبداد کا دور شروع ہوا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد وسطی اور مشرقی یورپ میں کمیونسٹ سوویت یونین کا غلبہ تاریخ کی بڑی برائیوں میں سے ایک تھا۔ اس ماحول میں جب امریکی صدر جارج بش اور روسی صدر ولادیمیر پیوتن نے ماسکو کے قریب صدر پیوتن کی رہائش گاہ میں ملاقات کی تو ان کا زیادہ وقت جارجیہ اور بالٹک ریاستوں پر ہی بات چیت کرتے گزرا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران روس میں ڈھائی کروڑ سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جو کہ جنگ عظیم دوئم میں ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد کا نصف ہے۔ امریکہ میں شکاگو میں نوترا دام یونیورسٹی میں سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ڈاکٹر ہرشوردھن پنتھ کہتے ہیں کہ صدر بش نے اس موقع پر روس کے خلاف بیان بازی اس لیے شروع کی ہے کیونکہ ایک طرف تو صدر بش چاہتے ہیں کہ انہیں دنیا بھر میں جمہوریت کے فروغ کے لیے پہچانا جائے اور اگر وہ مشرق وسطیٰ میں جمہوریت کے بات کرتے اور روس میں نہ کرتے تو ان پر اعتراض کیا جاتا کہ وہ بڑے ممالک کی طرف سے آنکھیں پھیرے ہوئے ہیں۔ اور دوسری طرف امریکہ کو یہ بھی خطرہ ہے کہ روس ایک دفعہ پھر عالمی طاقت کے طور پر ابھرنے کی کوشش کر رہا ہے اور بالٹک ریاستوں پر اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی فکر میں ہے ۔ ڈاکٹر پنتھ کے مطابق امریکہ چاہتا ہے کہ روس کے ارد گرد ریاستوں پر اس کا اثرورسوخ رہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||