دوسری جنگ عظیم کی60ویں سالگرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نازی جرمنی پر اتحادیوں کی فتح کی ساٹھویں سالگرہ کے موقع پر پورے یورپ میں تقریبات کا انعقاد کیا گیا ہے۔ 8 مئی 1945 میں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے تک40 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ صدر جارج بش نے ہالینڈ میں امریکی فوجی قبرستان میں افسران اور وہاں موجود لوگوں سے خطاب کیا جہاں 8000 امریکی فوجی دفن ہیں۔ فرانس اور برطانیہ میں بھی اس سلسلے میں تقریبات کا اہتمام کیا جا رہا ہےاورلندن کے ٹرافالگر اسکوائر میں اس سلسلے میں ایک کانسرٹ کیا جا رہا ہے۔ شہزادہ چارلس نے اس موقع پر لندن کے وہائٹ حال میں یادگار پر پھول چڑھائے۔انہوں اس تقریب میں اہم سرکاری اور فوجی شخصیات کی قیادت کی۔ ہالینڈ میں ملکہ بیٹرکس اور وزیر اعظم جین پیٹر بالکینڈے نے مسٹر بش اور ان کی اہلیہ کا خیر مقدم کیا۔ وزیر اعظم جین پیٹر نے امریکی فوجیوں کی تعریف میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کو ان فوجیوں کی کہانی اور قربانیوں کے بارے میں معلوم ہونا چاہئےکہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران لوگوں کو کس طرح کے خوفناک تجربات کا سامنا رہا۔ انہوں نے کہا ’ان سپاہیوں نے ہمیں سب سے قیمتی تحفہ دیا ہے اور وہ ہے آزادی‘۔ مسٹر بش نے اپنی تقریر میں مقامی لوگوں کو خراج عقیدت پیش کیا جو ان فوجیوں کی قبروں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ جرمن پارلیمنٹ بھی ایک تقریب کا اہتمام کرے گی جس میں ملک کے اہم سیاستدان شرکت کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||