ہٹلر کی نرس نے خاموشی توڑ دی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر نازی جرمنی کے رہنما ایڈولف ہٹلر کے بنکر میں ان کے ساتھ موجود ان کی ایک نرس کا پتہ چلا ہے جنہوں نے ہٹلر کے آخری ایام کے بارے میں تفصیلات بتائی ہیں۔ جرمنی کے ایک اخبار ’برلنر زائیٹنگ‘ نے ’میں ہٹلر کی نرس تھی‘ کے عنوان سے 93 سالہ ایرنا فلیگیل نامی اس نرس کے حوالے سے دوسری جنگ عظیم کے آخری دنوں کا احوال شائع کیا ہے۔ مسز فلیگیل کا کہنا ہے کہ ہٹلر کی طرف سے خود کشی کرنے کے بعد سے لے کر سویت فوجیوں کی وہاں آمد تک وہ اس بنکر میں موجود تھیں۔ مسز فلیگیل کے مطابق ہٹلر اس قدر خوفزدہ ہوچکے تھے کہ انہیں یہ بھی شک تھا کہ جاسوسوں نے ان کے زہر کے کیپسول میں نقلی زہر نہ بھر دیا ہو۔ جنوری 1943 سے لے کر جنگ کے خاتمے تک مسز فلیگیل کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ ہٹلر اور ان کے قریبی حلقے میں موجود افراد کی طبی امداد کریں۔ امریکہ کی خفیہ ایجینسیوں نے 1945 میں مسز فلیگیل سے ایک انٹرویو کیا تھا لیکن اس کے بعد پچھلے ساٹھ برس سے اپنے تجربات کے بارے میں مسز فلیگیل خاموش ہیں۔ تاہم اخبار کے مطابق اب ان کا کہنا ہے کہ ’میں اپنے راز اپنے ساتھ اپنی قبر میں نہیں لے جانا چاہتی۔‘ مسز فلیگیل نے جو تفصیلات بتائی ہیں وہ پہلے سے موجود معلومات کے برعکس تو نہیں ہیں لیکن ان میں مزید اضافہ ضرور کرتی ہیں۔ مسز فلیگیل نے بتایا کہ انہوں نے ہٹلر کے پروپیگینڈا چیف جوزف گوبلز کے چھ بچوں کو بچانے کی بہت کوشش کی۔ لیکن جوزف گوبلز کی بیوی ، جس نے ان بچوں کو زہر دیا، مسز فلیگیل کے مطابق ’بے رحم‘ تھی۔ مسز گوبلز کے مطابق ہٹلر کی خودکشی کے بعد جوزف گوبلز نے کمانڈ سنبھالی لیکن کسی نے بھی ان کی نہ سنی۔ مسز فلیگیل کے بعد ہٹلر کے زیادہ تر ساتھیوں نے اپنے آپ کو گولی مار کر ہلاک کرلیا اور جنہوں نے ایسا نہیں کیا انہوں نے بھاگنے کی کوشش کی۔ لیکن مسزفلیگیل کا کہنا ہے کہ وہ اس بنکر میں اس لئے موجود رہیں کیونکہ انہوں زخمیوں کا علاج کرنا تھا۔ مسز فلیگیل کے مطابق جب سویت فوجی بنکر میں پہنچے تو انہوں نے مہذب طریقے سے بات چیت کی اور انہیں اپنے کمرے کا دروازہ بند کرنے کو کہا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||