ہٹلر قتل سازش: ساٹھویں برسی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جرمن قوم منگل کے روز آڈوف ہٹلر پر قاتلانہ حملے کی ساٹھویں برسی منا رہی ہے۔ چانسلر گیرہارڈ شروڈر برلن میں آرمی کے ایک سابق ہیڈکوارٹر میں منعقد ہونے والی تقریب میں شریک ہو کر اس سازش کے سرغنوں کو خراج تحسین پیش کریں گے۔ ہٹلر پر قاتلانہ حملہ کرنے والوں کو اسی عمارت میں پھانسی دی گئی تھی۔ بیس جولائی سن انیس سو چوالیس کو کلوس شینک گراف واں سٹوفنبرگ نے ایک اجلاس کے دوران مشرقی پروشیہ میں واقع ہٹلر کے صدر دفتر میں بم نصب کر دیا تھا۔ مشرقی پروشیہ اب پولینڈ ہے۔ بریف کیس میں رکھا ہوا بم پھٹ تو گیا لیکن ہٹلر اس سے مکمل طور پر محفوظ رہے۔ ہٹلر نے کانفرنس کی میز کے پیچھے چھپ کر جان بچائی تھی۔ یہ وہ سازش تھی جس سے ہٹلر اور نازی پارٹی کا اقتدار ختم ہوتے ہوتے بچا۔ جرمنی کے ایک رئیس خاندان سے تعلق رکھنے والے واں سٹوفنبرگ جرمن فوج میں ایک سینیئر افسر تھے جو شمالی افریقہ کی جنگی مہم میں زخمی ہوئے تھے۔ وہ ہٹلر کے ایک قابل اعتماد ساتھی تھے اور ان کے ساتھ باقاعدگی سے مختلف اجلاسوں میں شرکت کرتے تھے۔ لیکن اس قاتلانہ حملے کے کچھ ہی گھنٹے بعد سٹوفنبرگ اور ان کے ساتھیوں کو ہٹلر کے حکم پر گرفتار کر کے سزائے موت دی گئی۔ آج ساٹھ سال بعد جرمن چانسلر اس سازش میں شریک افراد کو برلن میں ہونے والی ایک تقریب میں خراج تحسین پیش کررہے ہیں۔ جرمنی کے صدر ہورسٹ کوہلر بھی ان کے ساتھ تقریب میں شریک ہوں گے اور اس جگہ پھولوں کی چادر چڑھائیں گے جہاں سٹوفنبرگ کو پھانسی دی گئی تھی۔ برسی کے موقع پر جرمنی میں کئی ٹیلی ویژن پروگرام، فلمیں ، دستاویزی فلمیں اور کتابیں ریلیز کی جارہی ہیں۔ سٹوفنبرگ اور ان کے ساتھ سازش میں شریک افراد کو کئی جرمن شہری ہیرو سمجھتے ہیں جنہوں نے جرمنی کو نازی حکومت سے آزاد کرانے کی کوشش کی۔ دوسری طرف کچھ تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ پہ در پہ غلطیوں اور سازش میں شریک افراد کی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے ہٹلر حکومت سے چھٹکارا پانے کا ایک بہت اچھا موقع ضائع کر دیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||