ہٹلر کی پینٹنگ کی نمائش روک دی گئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جاپان میں فلموں کے ایک تقسیم کار نے یہودیوں کی تنظیم کے احتجاج کے بحد اس پینٹنگ کی نمائش روک دی جو جرمنی کے نازی رہنما ایڈولف ہٹلر نے بنائی تھی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس سے یہودیوں کے قتل عام کی یاد تازہ ہوگی۔ اس تصویر میں ویانہ کا ایک گرجا گھر دکھایا گیا ہے۔ پینٹنگ کی نمائش ٹوکیو تھیٹر میں سنیچر کو ہونی تھی جس کا مقصد ہٹلر کی زندگی پر بنائی جانے والی فلم کو فروغ دینا تھا۔ توشیبا انٹرٹینمنٹ کے ترجمان نے مبینہ طور پر کہا ہے کہ پینٹنگ میں لوگوں کی ضرورت سے زیادہ دلچسپی کی وجہ سے یہ نمائش منسوخ کرنی پڑی کیونکہ اس سلسلے میںلوگوں کی بڑی تعداد پینٹنگ کے بارے میں معلومات حا صل کرنا چاہتی تھی ۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے ترجمان کے حوالے سے کہا کہ لوگ مختلف طرح کے سوال کر رہے تھے جیسے کہ یہ پینٹنگ کتنے دن کے لئے نمائش میں رکھی جائے گی اور اسکی قیمت کتنی ہوگی وغیرہ وغیرہ۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اسے نمائش میں مناسب سیکیورٹی کے بارے میں تشویش بھی تھی۔ یہ فلم ایک نا کام مصور کی روداد بیان کرتی ہے جو اگے چل کر ایک کٹر قوم پرست بنا اور فلم کا مرکز ہٹلر اور نوادرات کے ایک یہودی تاجر کے درمیان تعلقات ہیں۔ ناقدین کا خیال ہے کہ اگر ہٹلر ایک کامیاب مصور بن جاتا تو اقتدار میں نہ آتا۔ ہٹلر نے بیسویں دہائی کے اوائل میں ہزاروں تصاویر بنائیں حالا نکہ ویانہ اکیڈمی آف فائین آرٹ میں داخلے کے لئے انکی درخواست مسترد ہو گئی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||