 |  بوسنیا کے بہت سے مسلمان اب تک عزیزوں کی تلاش میں ہیں |
سربرینیکا میں قتل عام کی نویں برسی کے موقعہ پر بوسنیا کے بیس ہزار لوگوں نے ایک میموریل سروس میں شرکت کی۔ اس قتل عام میں سات ہزار مسلمان مرد اور لڑکے سرب بوسنیا کی فورسز کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں یہ بڑا قتل عام تھا۔ قتل عام کے وقت کے ڈچ فوجی اقوام متحدہ کے زیر نگرانی سربرینیکا میں تعینات تھے۔ سرائیوو میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ہر سال سربرینیکا کے گردونواح میں قتل ہونے والوں کی مزید قبریں دریافت ہوتی ہیں۔آج کی برسی کی رسومات میں تین سو سے زائد متاثرین کی لاشوں کو دفنایا گیا۔ ہیگ میں بوسنیائی مسلمانوں نے اپنے سینکڑوں ہم وطنوں کی ہالینڈ سے ممکنہ بے دخلی پر احتجاج کیا۔ |