| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بوسنیا:ایک قبر، پانچ سو لاشیں
بوسنیا میں ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں ایک اجتماعی قبر سے تقریباً پانچ سو افراد کی لاشیں ملی ہیں جس سے ان کا اس قبر کا سب سے بڑی اجتماعی قبر ہونے کا اندازہ درست ثابت ہوا ہے۔ قبر سے تین سو پچاس لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ کہا جا رہا ہے کہ ایک سو پچاس کے قریب مزید انسانی ڈھانچے وہاں سے نکالے جائیں گے۔ اس قبر میں زیادہ تر افراد کے بارے میں خیال ہے کہ وہ مسلمان تھے اور انیس سو بانوے- پچانوے کی جنگ میں سربوں کا نشانہ بنا تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ قبر میں بہت سی لاشیں ان لوگوں کی ہیں جنہیں مختلف مقامات پر ہلاک کر کے اپنے جرم کو چھپانے کے لئے یہاں منتقل کیا گیا تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ کالی چوٹی نامی اس مقام کے دو کلومیٹر کے اندر اندر سولہ اجتماعی قبریں موجود ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار نے اس قبر کا دورہ کرنے کے بعد کہا ہے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو مارنے اور پھر ان کی لاشوں کو چھپانے کے لئے بہت منظم کارروائی کی گئی ہو گی۔ بوسنیا میں اجتماعی قبروں سے اب تک سترہ ہزار افراد کی لاشیں مل چکی ہیں جبکہ سولہ ہزار افراد کے بارے میں ابھی تک کچھ پتہ نہیں چلا۔ مذکورہ قبر کے ایک کونے میں دو سے بارہ سال تک کی عمر کے بچوں کی لاشیں بھی ملی ہیں جن کے ساتھ عورتوں بھی دفن ہیں جو غالباً ان کی مائیں تھیں |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |