BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 19 September, 2003, 01:38 GMT 05:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بوسنیا:ایک قبر، پانچ سو لاشیں
موستار
بوسنیا کی لڑائی کے بعد ابھی تک سولہ ہزار افراد لاپتہ بتائےجاتے ہیں

بوسنیا میں ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں ایک اجتماعی قبر سے تقریباً پانچ سو افراد کی لاشیں ملی ہیں جس سے ان کا اس قبر کا سب سے بڑی اجتماعی قبر ہونے کا اندازہ درست ثابت ہوا ہے۔

قبر سے تین سو پچاس لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ کہا جا رہا ہے کہ ایک سو پچاس کے قریب مزید انسانی ڈھانچے وہاں سے نکالے جائیں گے۔

اس قبر میں زیادہ تر افراد کے بارے میں خیال ہے کہ وہ مسلمان تھے اور انیس سو بانوے- پچانوے کی جنگ میں سربوں کا نشانہ بنا تھا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ قبر میں بہت سی لاشیں ان لوگوں کی ہیں جنہیں مختلف مقامات پر ہلاک کر کے اپنے جرم کو چھپانے کے لئے یہاں منتقل کیا گیا تھا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ کالی چوٹی نامی اس مقام کے دو کلومیٹر کے اندر اندر سولہ اجتماعی قبریں موجود ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار نے اس قبر کا دورہ کرنے کے بعد کہا ہے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو مارنے اور پھر ان کی لاشوں کو چھپانے کے لئے بہت منظم کارروائی کی گئی ہو گی۔

بوسنیا میں اجتماعی قبروں سے اب تک سترہ ہزار افراد کی لاشیں مل چکی ہیں جبکہ سولہ ہزار افراد کے بارے میں ابھی تک کچھ پتہ نہیں چلا۔

مذکورہ قبر کے ایک کونے میں دو سے بارہ سال تک کی عمر کے بچوں کی لاشیں بھی ملی ہیں جن کے ساتھ عورتوں بھی دفن ہیں جو غالباً ان کی مائیں تھیں

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد