| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بوسنیائی مسلمانوں کی یادگار
بوسنیا کے شہر سرے برِنیتسا میں انیس سو پچانوے میں قتل ہونے والے سات ہزار مسلمانوں کے لئے نئی یادگار تیار کی گئی ہے۔ جنگِ عظیم دوئم کے بعد یورپ میں ہونے والے اس سب سے بڑے قتل عام کی یادگار کا افتتاح امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن ہفتے کو کریں گے۔ بل کلنٹن کو یادگار کے افتتاح کی دعوت قتل عام میں ہلاک ہونے والوں کے رشتہ داروں نے دی ہے۔جس وقت بوسنیا میں لڑائی ختم ہوئی تھی بل کلنٹن امریکہ کےصدر تھے۔ قتل عام نے بالآخر امریکہ سمیت مغربی ممالک کو حرکت پر مجبور کیا اور انہوں نے مداخلت کر کے جنگ رکوائی تھی۔ قتل ہونے والوں کی یادگار اقوام متحدہ کے پرانے دفتر کے سامنے والے میدان میں پچاس لاکھ ڈالر کے خرچے سے ایک سال کے عرصے میں مکمل کی گئی ہے۔
سرے برِنیتسا پر سرب فوجوں نے جولائی انیس سو پچانوے میں قبضہ کیا تھا۔ اس کے بعد اگلے چند دنوں میں شہر کے کم سے کم سات ہزار مسلمان مردوں اور لڑکوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔مارے جانے والوں میں سے بہت سوں کی ابھی تک لاشیں نہیں ملی۔ قتل عام میں ملوث صرف دو افراد کو سزاسنائی گئی ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ تنازعہ حتمی طور پر صرف اس وقت کے سرب رہنماؤں کے قانون کی گرفت میں آنے کے بعد ہی حل ہو سکتا ہے۔ قتل عام کے باعث مطلوب دو اہم رہنما گزشتہ آٹھ سال سے روپوش ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||