مسلمانوں کے قتلِ عام کا اعتراف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بوسنیائی سرب حکام نے پہلی بار اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ 1995 میں ان کے فوجیوں نے سربرینتسا میں ہزاروں مسلمانوں کے قتل میں حصہ لیا تھا۔ یہ اعتراف بوسنیائی سرب حکومت کے قائم کیے گئے ایک کمیشن کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ اس کمیشن کو یورپ میں دوسری جنگ عظیم کے بعد بد ترین قتل عام کے اس واقعے کی تحقیق کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سرب فوج، پولیس اور وزارت داخلہ کے سپیشل یونٹس سبھی اس کارروائی میں ملوث تھے جسے عالمی حقوق انسانی کی شدید ترین خلاف ورزیاں اور ان کے ثبوت چھپانے کی کوششیں قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بعد میں فوج، پولیس اور حضوصی یونٹوں نے اسے چھپانے کے اقدامات بھی کیے۔ سربرینتسا کے آس پاس کے بتیس علاقوں سے اب تک جو اجتماعی قبریں دریافت کی گئی ہیں ان میں سے تقریباً چھ ہزار عمر رسیدہ مردوں اور نوجونوں کی لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں۔
ہیگ کی عالمی عدالت نے بوسنیائی سرب راہنما رادووان کارازچ اور ان کے فوجی کمانڈر رادکو ملادچ پر اس قتل عام کی فرد جرم عائد کر چکی ہے لیکن دونوں اب تک مفرور ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار نک ہاٹن کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ کے باوجود ناقدین کا کہنا ہے کہ اصل پیش رفت تب ہو گی جب بوسنیائی سرب حکام مشتبہ جنگی مجرموں کی گرفتاریاں شروع کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||