’سویت قبضہ تاریخ کی بڑی غلطی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جارج بش نے سویت یونین کےمشرقی یورپ پر قبضے کو تاریخ کی سب بڑی غلطی قرار دیا ہے۔ یورپ میں جنگ عظیم دوئم کے خاتمے کو ساٹھ سال کی تکمیل پر لیٹویا میں ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہ صدر بش نے جنگ کے بعد یورپ کی تقسیم میں امریکی کردار کا بھی اعتراف کیا۔ دوسری طرف ماسکو میں روسی صدر ولامیر پوتن نے کہا ہے کہ جنگ عظیم دوئم میں روسیوں نے نجات دہندہ کا کردار ادا کیا۔ روس پہلے ہی ان تقریبات کے سلسلے میں صدر بش کے بالٹک ریاستوں کو اولیت دینے پر احتجاج کرچکا ہے۔ بالٹک ریاستوں نے روسی صدر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بالٹک ریاستوں پر سویت قبضے پر ایک بار پھر معافی مانگیں۔ امریکہ نے بھی ان ریاستوں کے اس مطالبے کی حمایت کی ہے کیونکہ یہ ملک اس کے نیٹو کے اتحادی ہیں۔ تاہم صدر ولامیر پوتن نے کہا ہے کہ ایسا پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔ جرمن ٹی وی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں مسٹر پوتن نے کہا کہ سابق سویت یونین کی قیادت نے سنہ انیس سو نواسی میں ایک قرار داد کے ذریعے اُس معاہدے کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا جس کے تحت بالٹک ریاستوں کو سویت یونین کے حوالے کیا گیا۔ روس نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تیس ہزار جانوں کی قربانی سے نازی افواج کو شکست دینے والی وہ اہم طاقت تھی جس نے یورپ کو آزادی دلائی۔ امریکی صدر جارج بش نے بالٹک ریاستوں کے دورے کے دوران کہا ہے کہ وہ انکی تاریخ سمجھتے ہیں لیکن اب اس تاریخ سے بلند ہونے کا وقت آ گیا ہے۔ صدر بش نے لیتھونیا، لیتیویا اور استونیا کے رہنماؤں سے کہا ہے کہ انہیں دوسری جنگِ عظیم کے بعد انہیں مقبوضہ بنائے جانے کی سوویت پالیسی پر پیدا ہونے والے تنازعے کا علم ہے لیکن اب اس تاریخی تنازعے سے بلند ہونا چاہیے۔ صدر بش نے بالٹک ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ مغرب کے اس سرے پر سوویت کوششوں سے امن آیا لیکن اسی کے بعد بالٹک مالک پر کمیونسٹ استبداد بھی مسلط ہو گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||