صدر بش، بیوی کے ہاتھوں چِت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی خاتونِ اول نے وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی ایوسی ایشن کے عشائیے میں خطاب کرتے ہوئے اپنے شوہر اور امریکی صدر جارج بش پر فقرے چست کیے اور محفل کشتِ زعفران بنا دیا۔ عشائیے کی اس تقریب کے دوران امریکی صدور عام طور پر طنز و مزاح سے بھرپور تقاریر کرتے ہیں لیکن اس بار صدر بش نے جب ایک پرانا لطیفہ سنانا شروع کیا تو ان کی اہلیہ لارا بش نے فوراً فقرہ کسا اور کہا کہ ’پھر وہی پرانا لطیفہ۔۔۔؟‘، جس سے حاضرین کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ لارا بش نے مائیک سنبھالتے ہی صدر بش کے ساتھ گزری زندگی کا تذکرہ چھیڑ دیا اور کہنے لگیں کہ جب شام کو آرام کا وقت ہوتا ہے تو انہیں مشہور ٹی وی سیریل ’ڈیسپریٹ ہاؤس وائیویوز (یعنی بےچین بیویاں)‘ سے دل بہلانا پڑتا ہے۔ انہوں نے اپنے شوہر اور صدر جارج بش کے حوالے سے بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’اگر آپ ظلم و استبداد کا خاتمہ چاہتے ہیں تو آپ کو رات دیر تک جاگنا پڑے گا۔‘ لارا بش نے کہا کہ ’میں کئی برس سے ایسے عشائیوں میں شرکت کرتی آئی ہوں، جس دوران میں خاموشی سے بیٹھی رہتی ہوں۔‘ اس پر لوگوں نے خوب تالیاں بجائیں۔ انہوں نے مہمانوں میں شامل صحافیوں، سیاستدانوں اور ممتاز شخصیات سے خطاب کے دوران کہا کہ ’نو بجتے ہی جناب بستر پر جا لیٹتے ہیں۔ اور میں (نائب امریکی صدر کی اہلیہ) لِن چینی کے ہمراہ ’بےچین بیویاں‘ دیکھتی ہوں۔۔۔ خواتین و حضرات میں بھی ایک بےچین بیوی ہی ہوں۔‘ کچھ پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے لارا بش نے بتایا کہ ان کے شوہر نے ٹیکساس میں رینچ خریدنے کے بعد دیہی طرز زندگی کی مشق کی۔ ’رینچ پر پہلے برس کے دوران انہوں (جارج بش) نے بہت سے ہنر سیکھے۔ جب وہ ایک گھوڑی کا دودھ دوہنے کی کوشش کر رہے تھے تو اس سے زیادہ عجب کیا ہو گا کہ وہ یہ ہنر ایک نر گھوڑے پر آزما رہے تھے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||