| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
جارجیا:ہنگامی حالت، نئی سربراہ
جارجیا کے دارالحکومت تبلیسی میں اپوزیشن کے حامیوں نے پارلیمان پر دھاوا بولنے کے بعد اب اس عمارت پر بھی قبضہ کر لیا ہے جس میں صدر ایڈورڈ شِوارڈناتزے کے دفاتر تھے۔ حزبِ اختلاف کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جارجیا میں ایک پرامن انقلاب آ چکا ہے۔ صدر ناتزے نے پارلیمنٹ پر قبضے کے بعد ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کیا تھا لیکن صدر کے ددفاتر پر قضبہ ہونے کے بعد حزبِاختلاف کی ایک رہنما نے اپنے عبوری سربراہ ہونے کا اعلان کیاہے۔ مظاہرین انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے صدر ایڈورڈ شیورڈناتزے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ گزشتہ ماہ کے متنازعہ انتخابات کے بعد صدر آج پارلیمان کے اوّلین اجلاس سے خطاب کر رہے تھے کہ اپوزیشن کے بپھرے ہوئے حامی پارلیمانی عمارت کے دروازے توڑ کر اندر گھُس آئے۔ صدر کے ذاتی محافظ انہیں اپنے حصار میں لے کر عمارت سے باہر لے آئے۔ اس موقعے پر صدر کے حامیوں نے پارلیمان پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا چاہا لیکن ہزاروں کی تعداد میں جمع ہو جانے والے مظاہرین نے ان کی ایک نہ چلنے دی اس شورش کو منظّم کرنے میں اپوزیشن کے لیڈر مِیخائل ساکش وِل پیش پیش ہیں جنھوں نے صدر سےاپیل کی ہے کہ وہ خون خرابے کے بغیر اقتدار سے الگ ہو جائیں۔ جب سے بین الاقوامی مبصّرین نے پچھلے ماہ کے انتخابات کو ایک دھاندلی قرار دیا ہے اپوزیشن کی طرف سے حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ صدر شوار ناتزے نے اپنے حامیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مستعفی نہیں ہونگے اور اپنی صدارت کی مدّت پوری کریں گے۔ تازہ ترین اطلاع کے مطابق صدر نے ملک میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||