BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 January, 2006, 08:44 GMT 13:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یوکرائن کوگیس سپلائی رک گئی
گیس کی فراہمی
یوکرائن اپنی گیس کی ضروریات کا تیس فیصد روس سے پورا کر تا ہے
روس اور یوکرائن کے مابین گیس کی قیمتوں میں اضافے پر ہونے والے تنازعے کے بعد روس کی سرکاری گیس کمپنی گزپروم نے یوکرائن کو گیس سپلائی روک دی ہے۔

گیس کی سپلائی روک دینے کا کام دونوں ممالک کے درمیان قیمتوں میں اضافے کے معاہدے کو سلجھانے کے لیے مقرر کی گئی ڈیڈ لائن کے پورے ہونے کے بعد عمل میں لایا گیا۔

سنیچر کو روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرائن کو اگلے تین ماہ تک گیس کی قیمتوں کو منجمند کرنے کی پیشکش کی تھی بشرطیکہ کہ اس کے بعد یوکرائن گیس کی قیمتوں میں اس اضافے پر راضی ہو جائے۔

سینچر کو گزپورم کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرائن نے اس پیشکش کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ یوکرائن اپنی گیس کی ضروریات کا تیس فیصد روس سے پورا کر تا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ گیس کی سپلائی منقطع کردینے سے عام آدمی متاثر نہیں ہو گا کیونکہ ملک میں سردیوں کے موسم کے آخر تک گیس کے ضروریات کو پورا کرنے کے لیے وافر ذخائر موجود ہیں۔

سال نو پر تقریر کرتے ہوئے یوکرائن کے صدر وکٹر یشچین کو نے براہ راست تو اس حالیہ تنازعے کا ذکر نہیں کیاتاہم پچھلے دنوں پر نظر ڈالتے ہوئے انہوں نے اتنا کہا کہ یوکرائن نے ڈکٹیٹر شپ کو شکست دی اور اب وقت آگیا ہے کہ ملک کی معاشی آزادی کے لیے کام کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ دوسرے ممالک کو جو ابھی تک روس کے غلبے تلے ہیں انہیں مارکیٹ کی قیمت سے کم پر گیس فراہم کی جارہی ہے۔

یوکرائن کے صدر نے معاشی آزادی کا اشارہ دیا

انہوں نے کہا کہ یوکرائن اسی ڈالر فی ایک ہزار کیوبک میٹرز گیس سے زیادہ ادا نہیں کرے گا۔

اس سے قبل روس نے کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان گیس کی قیمتوں پر ہونے والے جھگڑے کے سلسلے میں ہونے والے مذاکرات میں ناکامی کے بعد یوکرائن کو نئے سال کےآغاز پر عالمی وقت کے مطابق سات بجے گیس کی سپلائی منقطع کردی جائے گی۔

یہ جھگڑا اسوقت شروع ہوا جب یوکرائن نے روس کے گیس کی قیمتوں میں چار سو ساٹھ فیصد اضافے کےمنصوبے پر عمل کرنے سے انکار کر دیا۔

یوکرائن اس وقت پچاس ڈالر فی ایک ہزار کیوبک میٹرز گیس کے حساب سے ادا کر رہا ہے۔

روسی کی گیس کمپنی اس قیمت میں اضافہ چاہتی ہے اور کا جواز وہ یہ دیتی ہے کہ گیس کی مارکیٹ میں قیمت دو سو تیس ڈالر ہے۔

بی بی سی کے معاشی امور کے نامہ نگار اینڈریو والکر کا کہنا ہے کہ گیس کی فراہمی میں یہ کمی سردیوں میں ایک خوفناک مسئلے کی شکل اختیار کر لے گی۔

یوکرائن کے گیس کی صنعت کے حکام کا کہنا ہے کہ گھریلو صارفین کی گیس کی ضروریات تو دوسری سپلائیوں کی مدد سے پوری کرلی جائیں گی البتہ صنعتی صارفین کو گیس کی مقدار میں کمی کا سامنا کرنا پڑے۔

دونوں ممالک کے دومیان اس تنازعے کے بعد یہ خدشہ بھی سر اٹھا رہا ہے کہ روس سے مغربی یورپ کو گیس کی فراہمی بھی متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ مغربی یورپ کی گیس کی فراہمی یوکرائن کے راستے ہوتی ہے لیکن ماسکو کا اصرار ہے کہ اس صورت حال سے ان ممالک کوگیس کی سپلائی متاثر نہیں ہو گی۔

اس مسئلے پر بات چیت کے لیے یورپی حکومتوں نے چار جنوری کو برسلز میں صنعتی ماہرین کا ایک اجلاس بھی طلب کر لیا ہے۔

یوکرائن کا اس مسئلے پرموقف ہے کہ گیس کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ سیاسی بنیاد پر کیا گیا ہے اور اس کے پس منظر میں یوکراین کازرد انقلاب اور ملک کے مغرب نواز صدر کا انتخاب ہے۔

اسی بارے میں
ایران کے لیے روسی میزائل
06 December, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد