روس: شام پر پابندیاں ناقابل قبول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس نے کہا ہے کہ وہ لبنانی وزیراعظم حریری کے قتل میں شام کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کی وجہ سےشام پر پابندیاں لگانے کی اقوام متحدہ کی کسی بھی کوشش کی مزاحمت کرے گا- اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام پر پابندیاں لگانے کی ایک تجویز زیر غور ہے جو فرانس امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے پیش کی گئی ہے۔ شام کے دیرینہ حلیف اور سلامتی کونسل کے مستقل ممبر روس کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی کسی بھی قرار داد کو ویٹو کر سکتا ہے۔ شام نے لبنانی وزیراعظم کی ہلاکت میں ملوث ہونے کہ بارے میں سلامتی کونسل کی رپورٹ مسترد کر دی ہے اوریہ الزام بھی مسترد کر دیا ہے کہ وہ مزید تحقیقات کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ سلامتی کونسل میں شام کے سفیر نے کہا کے جرمنی کےمحقق ڈیلٹو مہلس کی قیادت میں کام کرنے والی ٹیم معتصب ہے اور کچھ ممالک نفرت کے شعلوں کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسرائیل کے دورے میں مصروف روسی وزیر داخلہ کے ترجمان نے کہا کہ روس شام پر پابندیوں کے خلاف ہے۔روسی وزیر داخلہ ان دنوں اسرائیل کے دورے پر ہیں۔ روس ہر ممکن کوشش کرے گا کے شام پر پابندیاں نہ لگائی جائیں۔ فرانس امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے تجویز کردہ قرارداد کے مطابق شام پر زور دیا جائے گا کہ وہ اقوام متحدہ کے تحقیق کاروں کی نشاندہی پر اپنے مشتبہ شہریوں کو گرفتار کرے۔ اس دستاویز کہ مطابق شام کے عدم تعاون کی صورت میں سلامتی کونسل مزید اقدامات کر سکتی ہے جن میں ممکنہ پابندیاں بھی شامل ہیں- اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار سوزانہ پرائس کے مطابق ابھی ان پابندیوں کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ اس قرارداد کہ مطابق مشتبہ افراد کے اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے اوران کے سفر کرنے پر پابندی ہو گی۔ مزید یہ کہ مسٹر مہلس اور ان کی ٹیم کو تحقیق سے متعلق افراد اور شامی اہلکاروں سے پوچھ گچھ کرنے کی اجازت ہو گی۔ مسٹر مہلس نے یہ رپورٹ جس میں شام پر مسٹر حریری کے قتل پر ملوث ہونےکا الزام لگایا گیا ہے پندرہ اراکین پر مشتمل کمیٹی کے سامنے پیش کی جس کہ چند گھنٹوں کہ بعد ہی امریکہ اورفرانس نے یہ قرارداد پیش کر دی۔ لبنانی حکام نے پہلے ہی چار شامی جرنیلوں کو اقوام متحدہ کے کمیشن کے کہنے پر اور مزیدایک مشتبہ شخص کوایک لبنانی گروپ کےساتھ روابط پر گرفتار کر لیا ہے۔ ہمارے نامہ نگار کہ مطابق مسٹر مہلس نے یہ بتانے سے انکار کر دیا ہے کہ شامی صدر کے بہنوئی بھی مشتبہ افراد میں شامل ہیں۔ | اسی بارے میں دباؤ اسرائیل پر ڈالیں: شام05.05.2003 | صفحۂ اول شام: امریکی الزامات کی تردید15.04.2003 | صفحۂ اول امریکہ شام پر ہر ممکنہ دباؤ ڈالے: شیرون 15.04.2003 | صفحۂ اول ’شام کے خلاف پابندیاں‘14.04.2003 | صفحۂ اول شام ’اگلا‘ نشانہ نہیں: اسٹرا14.04.2003 | صفحۂ اول شام تعاون کرے: صدر بش13.04.2003 | صفحۂ اول شام جنگ کی مذمت جاری رکھے گا03.04.2003 | صفحۂ اول شام کی امریکہ پر برہمی30.03.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||