BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 31 December, 2005, 08:50 GMT 13:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سابق روسی وزیر روس کے حوالے
ایڈاموو
ایڈاموو سنہ 1998 سے 2001 تک روس میں جوہری توانائی کے وزیر تھے
سوئٹزرلینڈ کی حکومت نے روس کے سابق وزیر برائے جوہری توانائی کو رشوت ستانی کے الزام میں مقدمہ چلانے کے لیے روس کے حوالے کر دیا ہے۔

امریکہ نے روسی وزیر کو اس کے حوالے کرنے کی درخواست کی تھی لیکن سوئٹزرلینڈ نے روس کی بعد میں آنے والی درخواست کو منظور کر کے یوجینی ایڈاموو کو روس کے حوالے کر دیا ہے۔

سابق روسی وزیر پر الزام ہے کہ انہوں امریکہ کی جانب سے جوہری توانائی کے مراکز میں حفاظت کا نظام بہتر کرنے کے لیے دو جانی والی امداد میں خرد برد کیا تھا۔اطلاعات کے مطابق سابق روسی وزیر کو روس پہنچا دیا گیا ہے۔

سوئٹزرلینڈ کی سپریم کورٹ نے یوجینی ایڈاموو کو رشوت ستانی کے جرائم میں مقدمہ چلانے کی عرض سے امریکہ منتقل کیے جانے کی درخواست رد کر دی تھی اور انہیں روس کی درخواست پر سترہ ملین ڈالر کے غبن اور دیگر جرائم کے تحت مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے ماسکو بھیجنے کا حکم دیا تھا۔

یوجینی کو امریکی وارنٹ پر مئی میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم روس نے اس خطرے کے پیش نظر کہ کہیں روسی ایٹمی پروگرام کی تفصیلات امریکہ کے ہاتھ نہ لگ جائیں یوجینی کو ماسکو کے حوالے کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔

یوجینی ایڈاموو جو ایک جوہری سائنسدان بھی ہیں سنہ 1998 سے 2001 تک روس میں جوہری توانائی کے وزیر رہ چکے ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے روسی اداروں کے مطابق روس پہنچنے پر سابق وزیر ایڈاموو کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور انہیں ’میٹروسکیا ٹیشینا‘ نامی ریمانڈ جیل میں رکھا گیا ہے۔

روسی حکام کا کہنا ہے کہ روسی پراسیکیوٹر جنرل کے تفتیش کار سابق وزیر کی مجرمانہ سرگرمیوں کے خلاف تحقیقات شروع کرنے والے ہیں۔

روسی خبر رساں ادارے انٹرفیکس کے مطابق ایڈامووکی ملک بدری کا عمل حفاظتی نقطۂ نگاہ سے خفیہ رکھا گیا ہے۔ انٹر فیکس کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق ایڈاموو کو جمعہ کی شب ایک طیارے پر روس لایا گیا ہے اور اس منتقلی کے دوران انہیں ہتھکڑیاں نہیں لگائی گئی تھیں۔

تاہم پراسیکیوٹر جنرل اور روس کی فیڈرل پینل سروس کے حکام نے سابق وزیر کی روس آمد کی اطلاعات پر کسی قسم کا تبصرہ نہیں کیا ہے۔ انہی دونوں روسی اداروں کی کوششوں کی وجہ سے ایڈاموو کو سوئٹزرلینڈ سے ملک بدر کیے جانے کا حکم جاری ہوا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد