BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 January, 2006, 02:21 GMT 07:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
روسی گیس: تنازع سنگین ہو سکتا ہے
گیس کی فراہمی
یوکرائن اپنی گیس کی ضروریات کا تیس فیصد روس سے پورا کر تا ہے
یوکرائن سے گیس پر جھگڑے کے اثرات یورپ تک پہنچ گئے ہیں اور روس نے کیوو پرگیس چوری کا الزام لگایا ہے۔

ہنگری اور پولینڈ یورپ کے وہ پہلے ملک ہیں جن کوگیس کی فراہمی میں تعطل پیدا ہونا شروع ہوا ہے۔

درین اثناء امریکہ نے روس اور یوکرائن کے مابین گیس کی نرخوں پر ہونے والے تنازعے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

اس تنازعے کے باعث کئی یورپی ملکوں کو بھی گیس کی فراہمی میں کمی آئی ہے۔ امریکی دفترِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ روسی اقدام خطے میں توانائی کے معاملے پر عدم استحکام پیدا کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سے توانائی کو سیاسی دباؤ کے استعمال کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔

ادہر یورپی یونین نے روس سے کہا ہے کہ وہ معاملے کا کوئی ایسا حل تلاش کرے جس سے وسطی اور مغربی یورپ کو گیس کی فراہمی میں رخنہ نہ پڑے۔

روس اور یوکرائن کے درمیان گیس کی قیمتوں میں اضافے کے معاملے پر ہونے والے تنازعے کے بعد روس کی سرکاری گیس کمپنی گیزپرام نے یوکرائن کو گیس کی فراہمی روک دی ہے۔

گیس کی سپلائی روک دینے کا کام دونوں ممالک کے درمیان قیمتوں میں اضافے کے معاہدے کو سلجھانے کے لیے مقرر کی گئی ڈیڈ لائن کے پورے ہونے کے بعد عمل میں لایا گیا۔

جرمنی اور فرانس بھی روسی گیس کے بڑے صارفین میں سے ہیں تاہم انہوں نے کہا ہے کہ ان کے صارفین پر اس جھگڑے کے اثرات نہیں پڑیں گے۔ لیکن جرمنی نے کہا ہے کہ کچھ عرصے بعد گیس کے استعمال پر پابندی لگ سکتی ہے۔

روس نے یوکرآئن پر گیس چوری کرنے کا الزام لگایا ہے لیکن یوکرائن کا کہنا ہے کہ وہ روسی پابندی کو قبول نہیں کرتا اور اپنی سرزمین سے یورپی ملکوں کو جانے والی کا پندرہ فی صد معاوضے کے طور پر حاصل کرتا رہے گا چاہے روس اسے گیس کی فراہمی مکمل طور بند ہی کیوں نہ کر دے۔

یورپی یونین کو روس اور یوکرائن کے درمیان اس تنازعے سے ایک بڑے بحران کا سامنا ہے۔

روس یوکرین کو پچاس ڈالر فی ہزار معکب میٹر کے حساب سے گیس دیتا تھا اور اب ان نرخوں کو دو سو تیس ڈالر فی ہزار معکب میٹر کرنے کا تقاضا کر رہا تھا۔ جب کہ یورپ کو فراہم کی جانے والی گیس کے نرخ دو سو چالیس ڈالر فی ہزار معکب میٹر ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ ہنگری او پچیس فی صد اور پولینڈ کو گیس کی چودہ فی صد کمی کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں
ایران کے لیے روسی میزائل
06 December, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد