پیٹرو تہذیب کا مستقبل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’کروڈ۔ تیل کی کہانی‘ کی مصنف سونیا شاہ کہتی ہیں کہ انیس سو اسی کی دہائی میں تیل کا دوسرا عروج شروع ہوا۔ نئے راک فیلر جیسے ایکسون، موبل، شیورون وغیرہ وجود میں آئے۔ سنہ دو ہزار ایک میں تیل کی بڑی کمپنیاں دنیا کے اسی ملکوں میں چار ہزار ذخائر سے تیل نکال رہی تھیں۔ برطانیہ کے شمالی سمندر اور امریکہ کے الاسکا کے نئے کنوؤں کے تیل سے امریکہ کا اوپیک کے تیل پر انحصار کم ہونے لگا۔ تاہم امریکہ نے مشرق وسطی کے تیل پر کنٹرول کی حکمت عملی جاری رکھی۔ اسی دروان میں امریکہ نے مشرق وسطی میں اپنے زیراثر ملکوں جیسے بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو عراق اور ایران کی کسی ممکنہ گڑ بڑ کو روکنے کے لیے ہتھیاروں سےلیس کیا۔ ماہر مائکل کلئیر کہتے ہیں کہ انیس سو نوے اور انیس سو ستانوے کے درمیان امریکہ نے ان ملکوں کو بیالیس ارب ڈالر کے ہتھیار فروخت کیے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار ایک میں دنیا بھر میں لوگوں نے پچیس ارب بیرل تیل جلایا۔ اس سال تیل کی صنعت کی مالیت کا اندازہ دو سے پانچ کھرب ڈالر کے درمیان لگایا گیا۔ یہ عالمی معیشت کے چھٹے حصہ کے برابر تھی۔ امریکہ میں فی کس تیل کا استعمال تین گیلن روزانہ ہے۔ اس کے مقابلہ میں چین میں یہ مقدار اعشاریہ پندرہ گیلن فی کس ہے۔ آج امریکہ کے معاشرے میں تیل اتنا ناگزیر ہوگیا ہے کہ اس کی فراہمی میں ذرا سا خلل بھی سنگین ہوسکتا ہے۔ امریکہ ایک ہائیڈرو کاربن تہذیب ہے اور یہاں کی زندگی پٹرو زندگی ہے۔ امریکہ کےلوگ جو کھانا کھاتے ہیں وہ اوسطا پندرہ سو سے دو ہزار میل سفر طے کرکے ان تک پہنچتا ہے۔ امریکہ کی قابل کاشت زرعی زمین کے پانچویں حصہ پر مکئی کاشت کی جاتی ہے۔ ایک بشل مکئی کو پیدا کرنے کے لیے نائٹروجن کھاد کی صورت میں آدھا گیلن تیل یا پٹرولیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ ورلڈ ریسورس انسٹی ٹیوٹ کےمطابق جدید ہائی ٹیک معیشت کی بنیاد بھی کاربن پر ہے اور تیل جلانا جدید صنعتی معیشت کی سب سے بڑی سرگرمی ہے۔ امریکی معاشرے کی رگوں میں رواں دواں چالیس فیصد مادہ تیل ہے۔ امریکی حکومت اور عالمی مالیاتی ادارے اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ تیل کی معیشت کو فروغ ملے۔ امریکہ کے قرض دینے والے اداروں نے انیس سو بانوے سے سنہ دو ہزار دو تک ترقی پذیر ملکوں کو تیل سے متعلق منصوبوں کےلیے تیس ارب ڈالر کے قرضے دیے جبکہ عالمی بنک نے پچیس ارب ڈالر دیئے۔
اب تیل کے استعمال کی دوڑ میں بھارت اور چین بھی شامل ہوگئے ہیں۔ اندازہ ہے کہ سنہ بیس ہزار بیس تک ان دونوں ملکوں کا تیل کا استعمال صنعتی ترقی یافتہ ملکوں کے کل استعمال کے نوے فیصد کے بابر ہوگا۔ دوسری طرف تیل کے ذخائر کم ہوتے جارہے ہیں۔ انیس سو پچاسی میں برطانیہ کے شمالی سمندر کے تیل کے اپنے عروج پر پہنچ جانے کی خبریں آنا شروع ہوگئی تھیں۔ زیر زمین تیل کم ہونے پر تیل کی کمپنیوں نے جدید ٹکنالوجی کی مدد سے گہرے سمندروں کا رخ کیا۔ میکسیکو کے ساحل میں بھی تیل کی تلاش کی گئی۔ کینیڈا میں برفانی ہائبرنیا کے خطہ میں تیل تلاش کرنے کی کوشش کی گئی جو بہت مہنگی ثابت ہوئی۔ انیس سو چھیانوے میں ٹوٹل کمپنی نے انگولا کے ساحل میں بہت گہرائی میں تیل کے اربوں بیرل کے ذخائر دریافت کیے اور سنہ دو ہزار ایک میں انہیں نکالنا شروع کیا۔ اسے تیل کی صنعت میں بہت بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کا تخمینہ ہے کہ تیل اور قدرتی گیس کی پیداوار میں ہر سال تین سے پانچ فیصد کمی جاری رہے گی۔ چند سال میں وہ وقت آنےوالا ہے جب دنیا میں تیل کے نصف ذخائر ختم ہوجائیں گے۔
مصنف کا کہنا ہے کہ تیل کی کمپنیاں اور امریکی حکومت دنیا میں تیل کے ذخائر کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی رہی ہیں۔ تیل کی کمپنیوں کی بڑی امیدیں وسط ایشیا میں بحریہ کیسپئین میں تیل کے ذخائر سے تھیں۔ اندازہ تھا کہ وہاں دو سو ارب بیرل تیل کے ذخیرے ہیں۔ تاہم سنہ دو ہزار دو میں واضح ہوگیا کہ اس خطہ میں نو سے تیرہ ارب بیرل سے زیادہ تیل نہیں۔ اس وقت بھی مشرق وسطی کا تیل ہی سستا اور آسانی سے دستیاب ہونے والا تیل ہے۔ عراق میں تیل کے اسی کنویں دریافت ہوئے جن میں سے صرف سترہ سے تیل نکالا جارہا ہے۔ عراق کے تیل سے مالا مال مغربی صحرا سے تو ابھی تیل نکالا ہی نہیں گیا۔ صدام حسین نے سنہ دو ہزار تین میں عراق کی تیل کی پیداوار دگنی کرنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکہ کے لیے مشکل یہ تھی کہ اگر صدام ایسا کرتے تو ایکسون اور شیورون ٹیکساکو کی بجائے فرانسیسی، چینی اور روسی کمپنیاں تیل نکالتیں۔ امریکی فوجوں نے بیس لاکھ بیرل فی ہفتہ کے حساب سے تیل جلا کر چند ہفتوں میں صدام حسین کی حکومت ہی ختم کردی۔
مصنف کا کہنا ہے کہ دنیا کے تین بڑے خطوں میں اگلے پچاس برسوں میں تیل کے استعمال سے جو ماحولیاتی تبدیلیاں آئیں گی ان کی وجہ سے زندہ اجسام کی ایک تہائی انواع معدوم ہوجائیں گی۔ سوال یہ ہے کہ توانائی پر چلنے والی اس موجودہ انسانی تہذیب کو تیل کے کم استمعال سے کیسے قائم رکھا جائے۔ ترقی کے اس تصور کا مقصود مغرب کا اعلیٰ ٹیکنالوجی اور ہائڈرو کاربن پر مبنی معاشرہ ہے۔ تاہم ایک متبادل نظریہ یہ ہے کہ پیٹرو زندگی معمول سے ہٹی ہوئی چیز ہے جس کی بنیاد ایک بہت کم یاب اور ختم ہوجانے والی چیز یعنی تیل پر ہے۔ تیل کا ملنا ایسا ہی تھا جیسے کسی کو لاٹری مل جائے۔ مصنف کہتی ہے کہ دنیا سے جب ایک یا دو سو سال بعد تیل بالکل ختم ہوجائے گا تو پھر کئی کروڑ سال تک دوبارہ نہیں ملے گا کیونکہ فضا کی کاربن کو زمین اور سمندر میں جاکر تیل بننے میں اتنا ہی عرصہ لگتا ہے۔ وہ کہتی ہیں ایک عرب مثل ہے۔ میرا باپ اونٹ پر سواری کرتا تھا۔ میں کار چلاتا ہوں۔ میرا بیٹا جیٹ جہاز چلائے گا اور اس کا بیٹا اونٹ۔ |
اسی بارے میں یوریشیا پر کنٹرول کی امریکی جنگ15 March, 2006 | قلم اور کالم لاطینی انقلاب، امریکہ کی پریشانی01 September, 2005 | قلم اور کالم چین کی قابلِ رشک معاشی ترقی26 January, 2005 | قلم اور کالم بش اور خاندانِ سعود کے رشتے 27 October, 2004 | قلم اور کالم آذربائجان کی معیشت اور تیل28 July, 2004 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||