چین کاعروج: اقتصادی اثرات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دوسری قسط: امریکی ماہر تجارت اور صحافی ٹیڈ فش مین چین کی اقتصادی ترقی پر اپنی کتاب ’چائنا ان کارپوریٹڈ‘ میں کہتے ہیں کہ امریکہ اور دنیا کی معیشتیں چین کی معیشت سے ناگزیر طور پر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ مصنف کا کہنا ہے کہ گو اس وقت نظریں اسلام اور مغرب کی تہذیبوں کے تصادم پر لگی ہوئی ہیں لیکن طویل مدت میں چین ہی دنیا پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوگا۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکہ چین سے سامان نہ خریدے تو چین کی معیشت ترقی نہیں کرسکتی اور اگر چین امریکہ کو ڈالر خرید کر قرضہ نہ فراہم کرے تو امریکہ کےلوگ پیسہ خرچ نہیں کرسکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ چین اور امریکہ کی معیشتوں کے یہ جڑواں انجن دوسری قوموں کے پہیے بھی چلارہے ہیں۔ ٹیڈ فش مین بتاتے ہیں کہ امریکہ کے صارفین کی اہمیت یہ ہے کہ دنیا کی سالانہ مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کا پانچواں حصہ امریکہ کے لوگ خریدتے ہیں جس کی زیادہ رقم قرضہ (کریڈٹ) سے آتی ہے۔ امریکہ کا ہر گھرانہ تقریبا پچاسی ہزار ڈالر کامقروض ہے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ ایک سال میں چین سے امریکہ میں ڈیڑھ سو ارب ڈالر مالیت کی چیزیں درآمد کی گئیں۔ اگر امریکہ یہ سامان دنیا کے کسی اور ملک سے خریدتا تو امریکی عوام کو اس کی بہت زیادہ قیمت ادا کرنی پڑتی۔ یوں چین کی وجہ سے امریکہ معیشت میں بہت بچت (سیونگز) ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سنہ انیس سو چوراسی سے دو ہزار چار تک امریکہ میں ہر اس چیز کی قیمت کم ہوئی جو چین سے آتی ہے۔ ٹیڈ کا تخمینہ ہے کہ ایک اوسط امریکی گھرانہ کو چین کے مال کی وجہ سے پانچ سو ڈالر کی سالانہ بچت ہوتی ہے۔ یہ بچت صدر جارج بش کی طرف سے دیے گئے ٹیکسوں میں چھوٹ کے نصف کے برابر ہے۔
امریکہ نے سنہ دو ہزار چار میں ایک کھرب چوالیس ارب ڈالر کا مال بیرون ملک سے منگوایا تھا۔مصنف کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار گیارہ میں امریکہ کی ایک چوتھائی برآمدات کم آمدنی والے ملکوں خصوصا چین سے آئیں گی۔ امریکہ میں پنشن فنڈ کا زیادہ پیسہ تر وال مارٹ، موٹورولا، جنرل الیکٹرانکس، فلپس اور ایسی ہزاروں کمپنیوں میں لگا ہوا ہے جنہوں نے چین میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔ امریکہ کی سیکیورٹیز مارکیٹ کا ایک چوتھائی یعنی چار سو اسی ارب ڈالر کا حصہ چین کے پاس ہے۔ چین کے پاس چار سو ساٹھ ارب ڈالر مالیت کے زرمبادلہ کے ذخائر ہیں جو امریکی کرنسی میں ہیں۔ امریکہ کی تجارتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ چین نے اپنی کرنسی ’یوآن‘ کو ڈالر کے مقابلہ میں اپنی اصل مارکیٹ میں قدر کے مقابلہ میں چالیس فیصد تک کم رکھا ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چین کی کرنسی یوآن کے کم قیمت پر رہنے کی وجہ سے امریکہ کے لوگوں کو چین کا مال سستا ملتا ہے تو دوسری طرف یورپ کے کاروباری اداروں کے لیے چین کے کاروباری اداروں کامقابلہ کرنا مشکل ہوتا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر سنہ دو ہزار دو میں بانوے لاکھ امریکی گھروں میں کمپیوٹر کی نیٹ ورکنگ تھی جس سے لوگ اپنے گھر کے اندر ڈیٹا، موسیقی وغیرہ ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاسکتے تھے۔ صرف دو سال بعد چین کے سستے سامان کی وجہ سے یہ تعداد دو کروڑ اسی لاکھ تک جاپہنچی۔ چین کی معیشت دنیا کی معیشت کو کس طرح متاثر کرتی ہے اس کا اندازہ یوں لگائیے کہ ایک تحقیق کے مطابق جنوری سنہ دو ہزار چار سے مارچ دو ہزار چار تک صرف تین مہینوں میں اٹھاون امریکی، پچپن یورپی اور تینتیس ایشیائی ملکوں کی کمپنیوں نے اپنا کاروبار چین میں منتقل کرنے کا اعلان کیا جس سے ظاہر ہے ان ملکوں میں روزگار کم ہوا۔
مصنف کا کہنا ہے کہ شروع شروع میں کھلونے اور الیکٹرونکس بنانے والی امریکی کمپنیاں چین میں اپنا کاروبار منتقل کرتی تھیں تاہم اب بڑی کمپنیاں بھی منتقل ہورہی ہیں۔ سنہ دو ہزار چار میں چین منتقل ہونے والی ہر چار میں سے تین امریکی کمپنیاں ملٹی نیشنل اداروں کی شاخیں تھیں۔ مصنف کا کہنا ہے کہ ابھی تو چین ترقی یافتہ معیشتوں جیسا ہائی ٹیک مال نہیں بناتا لیکن جلد ہی ایسا بھی ہونے لگے گا۔ ٹیڈ کا کہنا ہے کہ جاپان کی اعلیٰ ٹیکنالوجی پر مبنی الیکٹرونکس اشیاء اور فوٹو شاپس، فرانس اوراٹلی کی گھریلو سامان کی مصنوعات اور جنوبی کوریا کے بحری جہاز تیار کرنے والی صنعتوں کو بھی چین سے مقابلے کا سامنا ہوگا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں خصوصًا جرمنی کی تین بڑی صنعتوں کیمیکلز، مشینیں اور آٹوموبائل گاڑیوں کو چین سے سخت مقابلہ کا سامنا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ چین دواؤں، بائیوٹیکنالوجی، ہوائی جہازوں اور ایم آر آئی جیسی مشینوں کی تیاری کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ چین میں اس وقت ایک سو بیس کمپنیاں آٹوموبائل گاڑیاں بنارہی ہیں۔ گزشتہ دس برسوں میں غیرملکی کمپنیوں نے چین میں آٹوموبائل بنانے کے لیے دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ یہاں کاریں استعمال کرنے والے متوسط طبقے کے لوگوں کی تعداد جلد دس کروڑ سے بڑھ جائے گی۔
دوسری طرف چین خود ایک بڑی منڈی کے طور پر سامنے آرہا ہے جہاں فلموں، کمپیوٹر گیموں، ٹیلی وژن پروگراموں اور موسیقی کے خریداروں میں اچانک زبردست اضافہ ہوسکتا ہے۔ چین میں ہر مہینہ پچاس لاکھ نئے لوگ موبائل فون کا کنیکشن لیتے ہیں۔ اس سے امریکہ میں اس قسم کی مصنوعات تیار کرنے والے افراد کو زبردست فائدہ ہوگا۔ ٹیڈ کے مطابق یورپی یونین اور چین پہلے ہی ایک دوسرے کے سب سے بڑے تجارتی شریک ہیں۔ ان کی تجارت کا حجم جلد ہی دو سو ارب ڈالر ہونے والا ہے۔ سنہ دو ہزار چار تک یورپ چین میں چالیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرچکا تھا۔ چین میں اس وقت ایسے اٹھارہ ہزار کاروباری ادارے کام کررہے ہیں جو یورپ کے پیسوں اور ماہرین کی وجہ سے وجود میں آئے ہیں۔ فرانس کے صدر یاک شیراک ان سولہ یورپی ملکوں کے رہنماؤں میں سے ایک ہیں جنہوں نے چین کو فوجی سامان بیچنے کی پابندی ختم کرانے کے لیے سرگرمی سے کام کیا اور اس بارے میں امریکہ کے اعتراضوں کی بھی پرواہ نہیں کی۔ مصنف کا کہنا ہے کہ چین یورپ کا قریبی اتحادی ہے۔ یورپ چین کو ایسے ملک کے طور پر دیکھتا ہے جودنیا میں استحکام چاہتا ہے۔ چین ایک ایسا ملک سمجھا جاتا ہے جو عالمی حالات کو جوں کا توں رکھنا چاہتا ہے کیونکہ اس کامفاد اس میں ہے کہ دنیا میں ہنگامہ آرائی نہ ہو۔ دوسری طرف یورپ امریکہ کو ایک ہنگامہ پرور ملک کے طور پر دیکھتا ہے۔ امریکہ ایشیا اور بحر اوقیانوس میں موجود رہنا چاہتا ہے اور اس کے اس خطے میں ناقابل مذاکرات مفادات ہیں۔ چین کے مفادات ایشیائی ملکوں سے بھی وابستہ ہورہے ہیں۔ چین کی وسیع و عریض منڈی میں ایشیائی ملکوں کی مصنوعات کی ضرورت ہے۔
سنہ دو ہزار چھ میں جنوب مشرقی ایشیا کی چین سے تجارت ایک سو بیس ارب ڈالر ہوجائے گی جو اس خطہ کی امریکہ سے تجارت کے حجم کے برابر ہے۔ چین نے جاپانی کمپنیوں کو بڑے بڑے ٹھیکے دیے ہیں۔ مصنف کے مطابق چین کی اقتصادی ترقی اپنی جگہ لیکن اس کی فوجی طاقت کو امریکہ کے قریب آنےمیں بہت مدت درکار ہے۔ سنہ دو ہزار چھ میں تو چین مشکل سے ننھے منے ملک تائیوان کی فوجی طاقت کے قریب ہی پہنچ سکا ہے۔ ٹیڈ کا کہنا ہے کہ چین کے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی اثر ورسوخ کا یہ مطلب نہیں کہ وہ لازمی طور پر فوجی منصوبہ بنانا شروع کردے یا امریکہ سے محاذ آرائی کی جانب بڑھے۔ | اسی بارے میں چین کاعروج، نقصان ایشیائی ملکوں کا08 April, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||