’بےچینی صحیح، اشتعال جائز نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوہاٹی میں تماشائیوں کی جانب سے احتجاج اور پتھراؤ کے بعد مستقبل میں وہاں کرکٹ میچوں کے انعقاد پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ انگلینڈ کے بلے باز اینڈریو سٹراس کا کہنا ہے کہ وہ گوہاٹی کے تماشائیوں کی بےچینی اور ہیجان کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تماشائیوں کی اس حقیقی مایوسی اور بے چینی کے باوجود میدان میں ہونے والے تشدد کی حمایت نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ کوئی بھی اس طرح سے حالات قابو سے باہر ہوتا نہیں دیکھنا چاہتا‘۔ انہوں نے کہا کہ’ جب ہم میدان سے واپس آ رہے تھے تب بھی تماشائیوں کے کچھ گروہ میچ نہ ہونے پر شدید مشتعل تھے۔ آپ ان کی جھنجھلاہٹ کا اندازہ کر سکتے ہیں کیونکہ وہ وہاں خاصی دیر سے موجود تھے اور کرکٹ نہیں ہو رہی تھی۔ باہر سے واقعی لگتا تھا کہ میدان میں حالات بالکل ٹھیک ہیں‘۔ دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کو میچ نہ ہونے کے اعلان کے ساتھ ہی مسلح نگرانی میں میدان سے باہر لے جایا گیا تھا۔ سٹراس کا کہنا تھا کہ’ کھلاڑیوں کو اپنی حفاظت کا بھی خیال تھا‘۔ سٹراس نے آسام کرکٹ ایسوسی ایشن کے اس دعوٰی کی تردید کی کہ دونوں ٹیموں کو محدود اوور کا ایک میچ کھیلنے کو کہا گیا تھا۔ یاد رہے کہ انڈیا کی ٹیم نے پہلے ہی چار برس سے گوہاٹی میں کوئی میچ نہیں کھیلا تھا اور شاید یہی ان بیس ہزار تماشائیوں کی بے چینی کی وجہ بھی تھی جو چھ گھنٹے تک کھیل کے انتظار میں بیٹھے رہے اور پھر کھیل نہ ہونے کے اعلان پر مشتعل ہو گئے۔ | اسی بارے میں میچ منسوخ: ہنگامے میں 12 زخمی 09 April, 2006 | انڈیا گوہاٹی: بارش کے باعث میچ منسوخ 09 April, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||