چین اور آسٹریلیا میں یورینیم معاہدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا اور چین نے ایک نئے جوہری معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت بیجنگ اپنے پاور سٹیشنوں کے لیئے آسٹریلیا سے یورینیم درآمد کرے گا۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے زیر نگرانی طے پایا ہے۔ آسٹریلیا میں دنیا کے چالیس فیصد یورینیم کے ذخائر موجود ہیں تاہم یہ یورینیم صرف ان ممالک کو فروخت کرتا ہے جنہوں نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط کیے ہوئے ہیں۔ اس سے قبل یہ دونوں ممالک کسی معاہدے پر پہنچنے میں ناکام ہوگئے تھے کیونکہ آسٹریلیا کو خدشہ تھا کہ چین یورینیم کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال کرے گا۔ آسٹریلیا کا اصرار ہے کہ جو ملک بھی اس سے یورینیم خریدنا چاہتا ہے وہ پہلے ایک اور معاہدے پر اتفاق کرے جس کے تحت وہ یہ یقین دہانی کروائے کہ یورینیم کو جوہری ہتھیاروں کے لیئے استعمال نہیں کیا جائے گا۔
پیر کو آسٹریلوی وزیر اعظم جان ہاورڈ اور ان کے چینی ہم منصب وین جیاباؤ کی موجودگی میں، جوکہ آسٹریلیا کے چار روزہ دورے پر ہیں، دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس معاہدے پر دستخط کیئے۔ جان ہاورڈ کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ جوہری ٹیکنالوجی کو صرف پر امن مقاصد کے لیئے استعمال کیا جائے گا۔ معاہدے کے تحت آُسٹریلیا 2010 سے ہر سال چین کو 20000 میٹرک ٹن یورینیم برآمد کرے گا۔ یورینیم پیدا کرنے والے اہم ممالک میں آسٹریلیا کے علاوہ کینیڈا، چین، قزاقستان، نمیبیا، نائیجر، روس اور ازبکستان شامل ہیں۔
اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان آٹھ دو طرفہ معاہدے کیے گئے ہیں۔ چینی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ چین آسٹریلیا تعلقات ددونوں ممالک کی تاریخ میں اس وقت بہترین موڑ پر ہیں۔ ماہرین ماحولیات اور حزب اختلاف کے حلقے اس معاہدے پر تنقید کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے بیجنگ اپنے ملک میں پیدا کی جانے والی یورینیم کو جوہری ہتھیاروں کے لیئے استعمال کرسکے گا۔ چین کو اپنی بڑھتی ہوئی معیشت کے لیئے توانائی کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ملک کی پرانی کوئلے کی کانیں اب ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیئے ناکافی ہیں اور ملک کے بڑوں شہروں میں بجلی منقطع کیئے جانے کا عمل عام ہے۔ چین 40 سے 50 جوہری ری ایکٹرز بنانے کا ارادہ رکھتا ہے جس کے لیئے یورینیم کی مسلسل فراہمی ضروری ہے۔ | اسی بارے میں ’ہند، امریکہ ایٹمی معاہدہ اچھا ہے‘12 January, 2006 | آس پاس ’ایران یورینیم کی آفزودگی روکے‘15 February, 2006 | آس پاس ایران سےشدید تشویش ہے: امریکہ 11 March, 2006 | آس پاس روس کے ساتھ معاہدہ ہوگیا: ایران28 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||