’ایران یورینیم کی آفزودگی روکے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس اور فرانس نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ یورینیم کی آفزودگی کاعمل مکمل طور پر روک دے۔ منگل کو ایران نے ناتنز پلانٹ پر یورینیم کی آفزودگی دوبارہ شروع کرنے کی تصدیق کی تھی۔ فرانس کے وزیراعظم اور روس کے صدر نے ایک مشترکہ بیان میں ایران پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے جوہری ادارے آئی اے ای اے کے مطالبات کو مکمل طور پر تسلیم کر لے۔ مغربی ممالک کا خیال ہے کہ ایران کا ادارہ جوہری ہتھیار بنانے کا ہے اور یورنیم کی آفزودگی اس کا پہلا قدم ہے۔ تاہم ایران کہتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ فرانس کے وزیراعظم ڈومینیک ڈی ویلیپئنز ان دنوں ماسکو کے دورے پر ہیں اور یہ مشترکہ بیان کریملن کی سرکاری ویب سائٹ پر جاری کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق فرانس اور روس کی جانب سے ایران کو کہا گیا ہے کہ وہ آئی اے ای اے کی قرارداداور ادارے کے بورڈ آف گورنرز کے مطالبات کو تسلیم کرے۔ آئی اے ای اے کی قررارداد میں ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ سلامتی کونسل کے سپرد کرنے کو کہا گیا تھا اوراگر ایسا ہو گیا تو ایران پر پابندیاں لگ سکتی ہیں اگرچہ اس بارے میں کوئی بھی اقدام آئی اے ای اے کے سربراہ کی مارچ میں پیش کی جانے والی رپورٹ تک کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔ آئی اے ای اے کا ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ سلامتی کونسل کے سپرد کرنے کی قرردا داد کے بعد ایران نے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو ایٹمی تنصیبات کے معائنے کی اجازت دینے سی انکارکر دیا تھا اور یورینیم کی آفزودگی دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی دی تھی۔ فرانس اور روس کا کہنا ہے کہ توانائی کے حصول کے لیے پرامن جوہری اس کے ساتھ ہی بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی برادری نے روس کی اس تجویز کی حمایت کی ہے کہ جس میں اس نے ایران سے یورینیم کی آفزودگی کا عمل اپنی سرزمین پر شروع کرنے کو کہا تھا۔ فرانس کے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے صورت حال ابھی اتنی خراب نہیں ہوئی اور اب بھی مثبت نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ اس سے قبل منگل کو ایران کے ایک سینئر مذاکرات کار جواد وعِدی نے کہا تھا کہ ایران کا وفد اگلے ہفتے روس جائے گا جہاں پر روس کی اس تجویز پر بات ہوگی کہ ایران کے لیے یورینیم کی آفزودگی کا عمل روسی سر زمین پر کیا جائے۔ سلامتی کونسل میں معاملہ بھیجے جانے کی بات کے بعد سے ایران نے جوہری پروگرام پر ہونے والی بات چیت ملتوی کردی تھی۔ جواد وعدی کا کہنا تھا کہ آئی اے ای اے کی قرارداد کے باوجود ایران یورینیم آفزودہ کرنے کا عمل روسی سر زمین پر کرنے کی تجویز پر بات کرنے کو تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے لیے یہ بات قابل قبول نہیں ہو گی کہ وہ یورینیم آفزودہ کرنے کے عمل پر جاری تحقیق کو روک دے۔ جواد وعدی کا کہنا تھا کہ ’ہم مغرب سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے لیے مسائل کھڑے نہ کرے کیونکہ ہمارا ارادہ انہیں نقصان پہنچانے کا نہیں ہے‘۔ |
اسی بارے میں افزودگی شروع کردیں گے: ایران01 February, 2006 | آس پاس ایران کا فیصلہ کل ہو گا02 February, 2006 | آس پاس ایران کو سلامتی کونسل کا سامنا03 February, 2006 | آس پاس ایران’مذاکرات کے لیے تیار ہے‘05 February, 2006 | آس پاس ایران مغرب سے بات کرے: عنان13 February, 2006 | آس پاس ایران، یورینیم کی آفزودگی پھر شروع14 February, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||