ایران کی جمہوریت کس نے چھین لی؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے حال ہی میں اپنے سٹیٹ آف یونین خطاب میں ایرانیوں سے اپیل کی کہ وہ ملک میں جہموریت کے قیام کے لۓ اپنے سخت گیر موقف رکھنے والے رہنماؤں سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ بیشتر ایرانی کہتے ہیں کہ اسلامی بلاک میں ایران پہلا ملک تھا جہاں کئی دہائیاں پہلے جہموریت قائم ہوئی تھی اور عام آدمی کو تمام شہری حقوق حاصل تھے اس وقت مغرب ہی نے نہ صرف ان سے یہ حق چھین لیا بلکہ اس وقت تک قرار سے نہیں بیٹھا جب تک ملک میں غیر مستحکم صورتحال پیدا نہیں کی۔ ایران کے اکثر مورخ صدر بش کو سن تریپن کا واقعہ یاد دلا رہے ہیں جب امریکہ اور ان کے حلیف مغربی ملکوں نے مصدق کی جہموری حکومت کو برطرف کرنے کی سازش رچائی اور رضا شاہ پہلوی کو اقتدار سونپ دیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مقبول ترین قوم پرست رہنما مصدق نے عوام کو اعتماد میں لے کر تمام تیل کمپنیوں کو قومیانے کا فیصلہ کر لیا۔ ان میں سے اہم کمپنی وہ تھی جس کا کنٹرول مشترکہ طور پر برطانیہ اور ایران سنبھال رہے تھے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس کمپنی سے حاصل شدہ آمدنی کا بیشتر حصہ برطانیہ کو ملتا تھا اور قلیل رایلٹی ایران کو۔ حکومت کے قومیانے کے فیصلے کا براہ راست اثر برطانیہ کو پڑنے والا تھا جس نے فورًا امریکی حمایت حاصل کرکے مصدق کا تختہ پلٹ کر رضاشاہ کے لئے راستہ ہموار کیا۔ حٰتی کہ بیشترایرانی پہلوی کو پہلے امریکی شہری ہی تصور کرنے لگے تھے۔ جہموری اور خوشحال ملک میں امن وامان کی صورت حال درہم برہم ہوگئی اور مظاہرین نے ایرانی سڑکوں پر ہنگامہ برپا کردیا۔ مبصرین کہتے ہیں کہ سی آئی ای اور ایم آئی سکس نے عوامی حکومت کا خاتمہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ گو کہ پہلوی کے زمانے میں ایران صنعتی میدان میں کافی ترقی کرگیا مگر ان ہی دنوں اسلامی انقلاب کا بیج بویا جارہا تھا جو سن اناسی میں بڑی تحریک کی شکل میں نمودار ہوا، جس نے نہ صرف ایران میں سخت گیر عناصر کو جلا بخشی بلکہ اسلامی دنیا میں دور دور تک اس کی جڑیں پھوٹ پڑیں۔ ایرانی عوام میں یہ تشویش بڑھتی جارہی ہے کہ اگر صدر بش دوبارہ جہموریت کی آڑ میں ملک کا امن وامان درہم برہم کرنا چاہتے ہیں تو انہیں شاید روکنے والا بھی کوئی نہیں کیونکہ کمیونزم کے خاتمے کے بعد امریکہ واحد پولیس مین کی شکل اختیار کرچکا ہے اور ملکوں کی سالمیت یا حاکمیت کی پرواہ کئے بغیر جس کسی کو زیر کرنا چاہتا ہے کر رہا ہے ۔ افغانستان اور عراق کی مثالیں سامنے ہیں۔ عالمی پولیس مین کی موجودگی میں ایران اپنے آپ کو کس طرح بچائے یہ بات ہر ایرانی کے ذہن پر ہتھوڑے مار رہی ہے۔ | اسی بارے میں ایران کا فیصلہ کل ہو گا02 February, 2006 | آس پاس ایران کو سلامتی کونسل کا سامنا03 February, 2006 | آس پاس اقوام متحدہ سے تعاون ختم: ایران04 February, 2006 | صفحۂ اول ایران کےخلاف ووٹ پر سخت ردِ عمل 05 February, 2006 | انڈیا ایران کی وجہ تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں07 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||