روس کے ساتھ معاہدہ ہوگیا: ایران | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نے کہا ہے کہ اس نے روس کے ساتھ یورانیم کی افزودگی سے متعلق ایک معاہدے کی چند شقیں طے کرلی ہیں۔ یہ معاہدہ ایران سے باہر یورانیم کی افزودگی سے متعلق ہے۔ دریں اثناء ایران کے ایک اعلٰی فوجی اہلکار نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو وہ اپنے بیلسٹک میزائیل استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس ایسے بے شمار میزائیل ہیں جو اسرائیل اور وہاں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ منوچہر متقی نے کہا ہے کہ ایران اور روس نے یورانیم کی افزودگی کے منصوبے میں شامل ممالک کی تعداد بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران ابھی اس مجوزہ منصوبے کے دیگر حصوں پر غور کررہا ہے اور ابھی یہ طے کرنا باقی ہے کہ ایران سے باہر یورانیم کی افزودگی کے لیے کس ملک کا انتخاب کیا جائے۔ تہران میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کو اپنے جوہری پروگرام پر مطمئن کرنے کے لیے ایران کے لیے یہ سب سے اہم شق ہے۔ ایران سے باہر یورانیم افزودہ کرنے کا مجوزہ منصوبہ بنیادی طور پر روس نے پیش کیا تھا تاکہ مغربی ممالک کے خدشات کو دور کیا جاسکے۔ مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کا مقصد جوہری ہتھیاروں کی تیاری ہے۔ دوسری جانب امریکہ نے ایران سے باہر یورانیم افزودہ کرنے کے مجوزہ منصوبے میں ایران کی دلچسپی کو یہ کہہ کر رد کردیا ہے کہ اس کا مقصد دنیا کی توجہ اصل معاملے سے ہٹانا ہے۔ ایران کو اپنے جوہری پروگرام کا معاملہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں پیش کرنے کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے جوہری ادارے آئی اے ای اے کا بورڈ اس ہفتے کے آخر میں اجلاس کرے گا تاکہ اس معاملے پر غور کیا جاسکے۔ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔ | اسی بارے میں ایران کو اسرائیل کی دھمکی21 January, 2006 | آس پاس جوہری پروگرام کے حق میں مظاہرہ23 January, 2006 | آس پاس ایران: بم حملوں میں چھ ہلاک 24 January, 2006 | آس پاس ایران: حملوں کا الزام برطانیہ پر25 January, 2006 | آس پاس ایران تنازعہ:امریکی سفیر کی طلبی27 January, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||