ایران: حملوں کا الزام برطانیہ پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نے منگل کو جنوب مغربی شہرالاہواز میں ہونے والے بم حملوں کے لیے برطانیہ کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ عراقی سرحد کے قریب واقع شہر الاہواز میں ہونے والے ان بم حملوں میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ایران کے وزیرخارجہ منوچہر متقی کا کہنا ہے کہ’برطانیہ کو ایران کے شکوک و شہبات کا جواب دینا چاہیے‘۔ متقی نے کہا کہ ان حملوں کے ماسٹر مائنڈ یا ان میں ملوث افراد کی تصاویر برطانوی حکام کے ساتھ اتاری گئی تھیں۔ لندن میں برطانیہ کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ برطانیہ دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔ ابھی تک کسی بھی گروہ نے منگل کو ایک نجی بینک کے اندر اور حکومتی ماحولیاتی ایجنسی کے دفتر پر ہونے والے ان بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم ایرانی حکام نے عربی نسل کے علیحٰدگی پسندوں پر ان حملوں کے سلسلے میں شک ظاہر کیا ہے۔ متقی نے تہران میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’ہمارے حکام اور انٹیلجنس سینٹروں میں یہ بات واضح ہے کہ برطانیہ نے ان حملوں کے لیے مدد فراہم کی۔ اور حملے چاہیے بصرہ میں ہوں یا لندن میں ان میں اس کا ہی ہاتھ ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ’ہمیں امید ہے کہ برطانوی حکام اس بارے میں مکمل وضاحت کریں گے‘۔ منوچہر نے کہا کہ حملہ آوروں کی مدد جنوبی عراق میں موجود برطانوی فوج نے کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ برطانوی حکام اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں گے اور اپنے ایجنڈے میں اسے سر فہرست رکھیں گے۔ تیل کی دولت سے مالا مال خوزستان کا صوبہ عراقی سرحد سے قریب ہے۔ اس علاقے میں دو ملین سے زیادہ عرب نسل کے لوگ آباد ہیں۔ اس علاقے میں گزشتہ سال جون اور اکتوبر میں ہونے والے بم دھماکے کے بعد سےافراتفری کی لہر آئی ہے۔ نومبر میں حکام کی عربوں کے ساتھ جانب داری برتنے کے الزام کے بعد سے الاہواز میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔ | اسی بارے میں ایران تنازعہ، پرامن حل چاہیئے: بش13 January, 2006 | آس پاس ایران پر لندن میں غور16 January, 2006 | آس پاس ایران کے جوہری پروگرام پر تشویش16 January, 2006 | آس پاس ایران نے 9 عراقی محافظ پکڑ لیے17 January, 2006 | آس پاس ایران پر ہنگامی اجلاس طلب18 January, 2006 | آس پاس ایران کو اسرائیل کی دھمکی21 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||