ایران پر ہنگامی اجلاس طلب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے ایٹمی ادارے آئی اے ای اے نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے جوہری تنازعے کے سلسلے میں دو فروری کو ادارے کا ہنگامی اجلاس ہو گا۔ برطانیہ، جرمنی اور فرانس نے ایک قرارداد کا ایک مجوزہ متن جاری کیا ہے جس میں ایران کا جوہری تنازعہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے جہاں ایران کو اپنی چند سرگرمیاں بند نہ کرنے کی صورت میں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آئی اے ای اے یعنی انٹرنیشنل اٹامک انرجی کمیشن جوہری امور سے متعلق اقوام متحدہ کا نگران ادارہ ہے۔ اجلاس میں ’آئی اے ای اے‘ کے ممبران اس بات کا جائزہ لیں گے کہ آیا ایران کے معاملے کو سلامتی کونسل کے حوالے کیا جانا چاہیے یا نہیں۔ بدھ کے روز ایران نے کہا ہے کہ مسئلے کے سلامتی کونسل کے حوالے کیے جانے کے امکانات بہت کم ہیں۔ فروری کے اس اجلاس میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کوشش کریں گے کہ ایران کے تنازعے کو سلامتی کونسل کے حوالے کر دیا جائے جبکہ روس اور چین نے پیر کے روز لندن میں ہونے والے مذاکرات میں سخت اقدامات کی مخالفت کی ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ سمجھوتے کے امکانات اب بھی موجود ہیں جبکہ چین نے تمام فریقین پر مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔ واضح رہے کہ دونوں ملکوں کے پاس سلامتی کونسل میں کسی بھی قرارداد کو ویٹو کرنے کا اختیار ہے۔ ماسکو میں ایران کے سفیر نے کہا ہے کہ تنازعے کو اب بھی بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے لیکن ان کی اس پیشکش کو امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس اور یورپی یونین کے امور خارجہ کے سربراہ ہیویئر سولانا نے رد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر ایران کوئی نئی پیشکش نہیں کرتا تو اس صورتحال میں مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ یورپی ممالک کو جلدبازی نہیں کرنی چاہیے۔ تاہم انہوں نے مسئلے کے سلامتی کونسل میں نہ جانے کی امید کی وجہ نہیں بتائی۔ انہوں نے کہا کہ جوہری تحقیق اور جوہری ایندھن بنانا الگ الگ چیزیں ہیں۔ ایران نے دھمکی دی ہے کہ کسی قسم کی پابندیاں لگنے کی صورت میں وہ نہ صرف آئی اے ای اے کے ساتھ ہر قسم کا تعاون ختم کر دے گا بلکہ وہ دنیا کو تیل کی ترسیل بھی بند کر دے گا۔ |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||