چین: پہلا عالمی بدھ مت فورم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تیس ملکوں سے بدھ مت کے پیروکار ’ورلڈ بدھ مت فورم‘ میں شرکت کے لیے چین میں جمع ہوئے ہیں۔ کمیونسٹ چین میں یہ پہلا مذہبی اجتماع ہے۔ اس مقصد کے لیے سینکڑوں بدھ بھکشو اور بدھ دانشور مشرقی شہر ہینگ زاؤ میں اکٹھے ہوئے ہیں۔ تاہم اس کانفرنس میں شرکت کے بدھ متوں کے روحانی پیشوا دلائی لامہ کو دعوت نہیں دی گئی۔ چین تبت کے جلا وطن رہنما دلائی لامہ کو علیحدگی پسند قرار دیتا ہے اور اس نے بدھ مت کے پیشواؤں میں دلائی لامہ کے بعد دوسرے سب سے اہم پیشوا تصور کیے جانے والے رہنما گیالٹسین نوربو کو دلائی لامہ کی جگہ سربراہ مقرر کیا ہے۔ لیکن خبر رساں ادارے رائٹر کا کہنا ہے کہ اجتماع میں شریک مندوبین نے گیالٹسین نوربو کوئی خاص اہمیت نہ دے کر حیران کر دیا۔ کانفرنس کی باقاعدہ کارروائی سے قبل بدھ کو ہونے والی خیر مقدمی تقریب میں گیالٹسین نوربو کے ساتھ عام مندوب کا سا سلوک کیا گیا۔ چین نے گیالٹسین نوربو کو 1995 میں دلائی لامہ کی جگہ پنچن لامہ مقرر کیا تھا جس کے بعد دلائی لامہ نے بھی پنچن لامہ کا تقرر کیا لیکن دلائی لامہ کے مقرر کردہ پنچن لامہ اپنے تقرر کے بعد سے ہی لا پتہ ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ انہیں ان کے گھر میں نظربند کر دیا گیا ہے۔
چین میں بدھ مت کے پیروکاروں کی تعداد دس ملین یعنی دس کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ چین کے دارالحکومت بیجنگ سے بی بی سی کے نامہ نگار ڈین گریفتھ کا کہنا ہے کہ کمیونسٹ پارٹی ملک میں مذہبی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھتی ہے تا کہ وہ کسی چیلنج کی شکل اختیار نہ کر سکیں۔ چین میں مذہبی عبادات سرکاری تنظیموں کے ہوتی ہیں اور ملک میں مذہبی آزادی نہ ہونے کی بنا پر چین کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے تاہم چین کو توقع ہے کہ اس کانفرنس کے انعقاد سے اس پر مذہبی آدیوں کے نہ ہونے کے حوالے سے کی جانے والی تنقید میں کمی آئے گی۔ | اسی بارے میں تبت سے دور رہیں: دلائی لامہ24 June, 2004 | آس پاس تبت کا غیریقینی مستقبل24.06.2003 | صفحۂ اول دلائی لامہ کشمیر کے دورے پر13.06.2003 | صفحۂ اول دلائی لامہ: چینی موقف میں نرمی17.09.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||