تبت سے دور رہیں: دلائی لامہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تبت کے جلاوطن رہنما دلائی لامہ نے کے ایف سی سے کہا ہے کہ وہ تبت میں اپنی برانچیں کھولنے کا ارادہ ترک کر دے کیونکہ بڑے پیمانے پر مرغیوں کا ’قتل عام‘ علاقے کی روایات کی خلاف ورزی ہوگا۔ امریکی کمپنی کو لکھے گئے ایک خط میں دلائی لامہ نے کہا کہ چینیوں کے آمد سے پہلے تبت کے رہنے والے مرغی اور مچھلی کا استعمال نہیں کرتے تھے کیونکہ ان کے خیال میں جانوروں کی بڑی تعداد میں ہلاکت اخلاقی طور پر قابل قبول نہیں ہے۔ ’اس کے بجائے تبت کے رہنے والے بڑے جانوروں کو خوراک کے طور پر استعمال کرتے تھے جس کی وجہ سے جانوروں کی تھوڑی تعداد کو ذبح کرنا پڑتا تھا۔‘ دلائی لامہ کے ایک مشیر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہوں نے یہ خط جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کی درخواست پر لکھا ہے۔ امریکی فوڈ کمپنی کے ایف سی نے ابھی تک دلائی لامہ کے خط پر کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||