چین کا اسلحہ، خریدار بے قرار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگرچہ چین کی شہرت کم قیمت والی چیزیں بنانے کے لیئے خراب ہو چکی ہو لیکن اسلحہ کے میدان میں اس کے پاس ابھی بھی بہت مواقع ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک جو مہنگا اسلحہ خریدنے کے متحمل نہیں ہو سکتے یا انہیں جدید مغربی اسلحہ حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی اب اس مقصد کے لیئے دنیا کی نئی سپر پاور سے رجوع کر رہے ہیں۔ ایمنسٹی انسرٹیشنل پہلے ہی چین کو تنقید کا نشانہ بنا چکی ہے کہ اس کا بیچا ہوا اسلحہ برما اور سوڈان جیسے ملکوں میں ایسے مقاصد کے لیئے استعمال کیا جا رہا ہے جن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز سے ایشیائی امور کے ماہر ٹم ہکسلے کا کہنا ہے کہ چین برما کو اسلحہ فرام کرتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’چینی اسلحے کے بغیر برما کی فوج کے آپریشن ناممکن ہو جائیں گے‘۔ سوڈان کے مسئلے میں غور طلب بات یہ ہے کہ بحران کی سنگینی میں چینی اسلحے کا کس حد تک کردار ہے؟ چین نے سکیورٹی کونسل میں سوڈان کے معاملے میں ویٹو کرنے کی دھمکی بھی دی ہے اور کہا ہے کہ یہ اس ملک کا اندرونی معاملہ ہے جبکہ امریکہ نے سوڈان پر جزوی پابندیاں برقرار رکھی ہوئی ہیں۔ چین پر اب تک ایران، پاکستان اور شمالی کوریا کو میزائل ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے سلسلے میں تنقید کی جاتی رہی ہے لیکن روایتی ہتھیاروں کی فروخت کے اس پہلو پر توجہ نہیں دی گئی۔ چین اسلحہ کی فراہمی کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیئے مفید سمجھتا رہا ہے۔ اب دنیا کی منڈی میں اس کے بڑھتے ہوئے معاشی کردار میں اسلحہ بھی ایک اہم پہلو ہے۔ کچھ لوگ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس آزاد تجارت کے دور میں جب کہ چین نے دنیا کی منڈیاں اپنی مصنوعات سے بھر دی ہیں، اسلحہ کی فروخت پر بھی کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہیئے۔
اس کے علاوہ چین کی دفاعی سازوسامان کی برآمدات امریکہ کے مقابلے میں بہت معمولی ہیں اور فرانس، روس اور برطانیہ جیسے ممالک سے بھی کم ہیں۔ درحقیقت اس کی برآمدات میں پچھلے بیس سالوں میں کمی آئی ہے اور یہ سالانہ دو ارب ڈالر سے کم ہو کر ایک ارب ڈالر کی مالیت تک پہنچ گئی ہیں۔ اس کی وجوہات میں روس کی طرف سے تجارتی مقابلہ اور ایران عراق جنگ میں چینی اسلحے کی بری کارکردگی ہیں۔ لندن سے ایک دفاعی تجزیہ نگار پال بیوور کا کہنا ہے کہ چین اس قسم کا اسلحہ فروخت کر رہا ہے جو اب مغربی طاقتیں نہیں بناتیں۔ انہوں نے کہا کہ ’چین کی پالیسی ہے کہ وہ ہر ملک اور ہر خود مختار حکومت کو اسلحہ بیچے گا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان میں سے کچھ ممالک پر پابندیاں عائد ہیں‘۔ چین کے اسلحہ بیچنے کے مقاصد میں مالی فوائد کے علاوہ دوطرفہ تعلقات اور خطے میں اثرورسوخ کے پہلو بھی اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ تجزیہ نگار یہ بھی سمجھتے ہیں کہ چین اسلحے کی ترسیل میں اپنی توانائی کی ضروریات کو مد نظر رکھتا ہے۔ اسلحے کی فروخت اور اس کے نتیجے میں مختلف ممالک میں جاری تنازعات پر ہونے والے اثرات کی وجہ سے چین تنقید کا نشانہ بن رہا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس کی ذمہ دار نجی کمپنیاں ہیں جبکہ دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ اس کام سے حکومت کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تجزیہ نگار یہ بھی کہتے ہیں کہ چین میں دیگر بہت سے ممالک کی طرح اسلحہ کی فروخت کا عمل اتنا شفاف نہیں ہے کہ اس میں عوامی رائے اور نگرانی شامل ہو۔ چین ایمنسٹی انٹرنیشنل کے الزامات سے انکار کرتا ہے تاہم اس کی خواہش ہے کہ اسے دنیا میں ایک ذمہ دار سپر پاور کے طور پر دیکھا جائے۔ |
اسی بارے میں شنگھائی کانفرس: ایران پر بات چیت15 June, 2006 | آس پاس ’اسلحے کی غیرذمہ دارانہ فروخت‘ 12 June, 2006 | آس پاس چین: ڈیم کی عارضی دیوار منہدم06 June, 2006 | آس پاس ماؤ کے ماڈل کی نیلامی پر شدید ویب تنازع22 May, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||