شنگھائی کانفرس: ایران پر بات چیت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین، روس اور وسط ایشیا کے ممالک کے سربراہان چین میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں جس میں ایران کا جوہری معاملہ بھی زیرِ بحث لایا جا رہا ہے۔ ایران کے صدر محمود احمدی نژاد بھی شنگھائی تعاون تنظیم کے اس اجلاس میں بطور مبصر مدعو کیا گیا ہے۔ چین اور روس ایران کے خلاف اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کی تجویز کی مخالفت کرتے آئے ہیں اور مبصرین کے مطابق یہ دونوں ممالک وسط ایشیا میں امریکہ کی موجودگی پر فکرمند ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم نے علاقے میں امریکی موجودگی کا مسئلہ گزشتہ برس کے اجلاس میں بھی اٹھایا تھا جب امریکہ سے ازبکستان اور کرغزستان سے فوجی اڈے ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ شنگھائی تعاون تنظیم دراصل سویت یونین کی تقسیم کے بعد چین اور اس کے ہمسایہ ممالک کے سرحدی تنازعات کے حل کی خاطر قائم کی گئی تھی تاہم بی بی سی کے تجزیہ نگار مائیک ہیزلٹ کے مطابق اب یہ تنظیم ایشیائی سیاست میں نہایت اہمیت رکھتی ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں افغانستان سمیت متعدد غیر رکن ممالک کو بھی مدعو کیا گیا ہے تاہم بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس اجلاس کے دوران سب کی نظریں ایرانی صدر پر ہوں گی جو اس اجلاس سے خطاب بھی کریں گے۔ یاد رہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں ایران کو یورینیم کی افزودگی روکنے کے عوض مراعات کی پیشکش کر چکی ہیں اور مغربی سفارتکار بھی اس پیشکش پر ایران کے ابتدائی ردعمل سے مطمئن نظر آتے ہیں۔ سنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک میں چین،روس، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں جبکہ پاکستان، ایران، انڈیا اور منگولکیا کو مصبرین کا درجہ حاصل ہے۔ | اسی بارے میں ایران: جوابی پیکج کا اعلان کریں گے10 June, 2006 | آس پاس ’یورینیم کی افزودگی جاری ہے‘08 June, 2006 | آس پاس ایران کا رد عمل مثبت ہے: بش07 June, 2006 | آس پاس سولانا تجاویز لے کر ایران جائیں گے03 June, 2006 | آس پاس ایران: مراعاتی پیکج پر اتفاق01 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||