ماؤ کے ماڈل کی نیلامی پر شدید ویب تنازع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چینی رہنما ماؤ زے تنگ کی تیانامین سکوائر پر نصب ایک پینٹنگ کے اصل ماڈل کی نیلامی کے منصوبے کے باعث چین میں ویب پرزبردست تنازع پیدا ہو گیا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں صارفین چینی انٹرنیٹ کے چیٹ رومز میں اگلے مہینے ماؤ زے تنگ کی پیٹنگ کے ماڈل کی نیلامی پر اپنی مخالفت اور ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ پینٹنگ جسے ماؤ کے پورٹریٹ بنانے والے ایک فنکار ژانگ زینشی نے بنایا تھا، نیلامی کے لیئے تیار ہے اور توقع ہے کہ اس سے ایک لاکھ بیس ہزار امریکی ڈالر ملیں گے جو ایک لاکھ یوان کے مساوی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پینٹنگ کی نیلامی کے خلاف اٹھارہ ہزار ای میلز موصول ہوئی ہیں۔ ایک شخص نے جس نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا کہا: ’میں چیئرمین ماؤ کے پورٹریٹ کی نیلامی کی شدید مخالفت کرتا ہوں کیونکہ نہ یہ فنکاری کا نمونہ ہے نہ تجارتی شے ہے۔ ماؤ زے تنگ ہماری عظیم قوم کے روحِ رواں ہیں۔‘
ایک دوسرے شخص نے لکھا: ’ ان کی جرآت کیسے ہوئی کہ وہ چیئرمین ماؤ کی تصویر کی نیلامی کریں۔ اگر آج انہوں نے یہ پینٹنگ فروخت کردی تو کل وہ تیانامین سکوائر کا روسٹرم بھی بیچ ڈالیں گے۔‘ زینشی کو جو ان تیس فنکاروں میں شامل تھے جنہیں انیس سو پچاس میں پیپلز ریپبلک آف چائنا کی پہلی سالگرہ پر ماؤ کی تصویر بنانے کی دعوت دی گئی تھی۔ بعد ازاں تیانامین سکوائر پر اس پینٹنگ کا ماڈل نصب کر دیا گیا تھا۔ تیانامین سکوائر کو سن پچاس کی دہائی میں کمیونسٹ چین کے انقلاب کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
آج بھی چیئرمین ماؤ کو جدید چین کا بابائے قوم سمجھا جاتا ہے حالانکہ ان کی قیادت میں بڑی بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں ہوئی تھیں جن کی وجہ سے چین میں دس برس تک افراتفری اور بے امنی کا دور رہا اور کئی چینی ہلاک ہوئے۔ بعض لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ماؤ کے پورٹریٹ کو قومی میوزیم کی زینت بنا دیا جائے۔ چین میں فائن آرٹس کے میوزیم کے محقحق چین لاشینگ کہتے ہیں: ’فن اور تاریخ کے تناظر میں یہ پورٹریٹ ہمارے لیئے انتہائی منزلت کا حامل ہے۔‘ یہ پینٹنگ جو ایک چینی امریکی کی ملکیت ہے نیلامی کے لیئے تین جون کو ویب پر موجود ہوگا اور فروخت کے لیئے بولی دینے کے لیئے چینی لوگوں کے علاوہ غیر ملکیوں کو بھی اجازت ہوگی۔ لیکن یہ نیلامی ایک حساس وقت پر ہو رہی ہے۔ انیس سو نواسی میں تیانامین سکوائر پر جموریت کے حق میں کیئے جانے والے طالب علموں کے ایک مظاہرے کے خلاف فوجی کارروائی کی گئی تھی۔ | اسی بارے میں چین، ثقافتی انقلاب کی یادیں دھندلی16 May, 2006 | آس پاس چین: متنازعہ ڈیم کی دیوار مکمل20 May, 2006 | آس پاس دفترکی آرائش ’مِگ 21‘ سے 02 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||