دفترکی آرائش ’مِگ 21‘ سے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین کے ایک اخبار کے مطابق ایک کاروباری شخص نے اپنے دفتر کی آرائش کے لیئے’ای بے‘ ویب سائٹ سے قریباً پچیس ہزار ڈالر کے عوض ایک پرانا مگ اکیس لڑاکا طیارہ خریدا ہے۔ طیارے کے خریدار نے چینی اخبار ’بیجنگ نیوز‘ کو بتایا کہ’میرے پاس رقم تھی اور دفتر میں اتنی خالی جگہ بھی جہاں میں اس جہاز کی نمائش کر سکتا تھا‘۔ زینگ چینگ نامی اس بزنس مین نے روسی ساختہ طیارہ ایک امریکی سے خریدا ہے۔اطلاعات کے مطابق اس جہاز کو آخری مرتبہ 1995 میں اڑایا گیا تھا اور طیارے کے نئے مالک کا کہنا ہے کہ اس طیارے کو جمہوریہ چیک کی فضائیہ نے ریٹائر کیا تھا۔ یہ جہاز امریکہ میں ہی موجود ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ اس کے نئے مالک کو اسے چین لانے کے لیئے کسی اجازت نامے کی ضرورت پڑے گی یا نہیں۔ زینگ چینگ کا کہنا ہے کہ’میں نہیں جانتا کہ جیٹ طیارہ ایک ممنوعہ چیز ہے یا نہیں‘۔ انہوں نے ایک اور چینی کمپنی کا حوالہ بھی دیا جس نے سابق روسی طیارہ بردار بحری جہاز خریدا ہے اور وہ اسے ایک ’تھیم پارک‘ میں تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پہلے مگ اکیس طیارے نے سنہ 1956 میں اپنی پہلی پرواز کی تھی اور اسے 1959 میں سوویت فضائیہ میں شامل کیا گیا تھا اور اس کے بعد سے یہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد سب سے زیادہ بنایا جانے والا طیارہ ہے۔ | اسی بارے میں انڈیا: فضائیہ سے ’مِگ 25‘ ریٹائر09 April, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||