انڈیا: فضائیہ سے ’مِگ 25‘ ریٹائر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈین فضائیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ سرد جنگ کے زمانے کے جاسوس مگ پچیس طیارے ریٹائر کر رہی ہے۔ فضائیہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ انڈین فضائیہ میں موجود آخری چار مگ پچیس طیاروں کو پہلی مئی کو ریٹائر کر دیا جائےگا۔ ائر وائس مارشل ایس مکھر جی کا کہنا تھا کہ ’ یہ ایک یادگار موقع ہو گا اور اس موقع پر فلائی پاسٹ بھی ہوگا‘۔ انہوں نے بتایا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ان طیاروں کو نمائش کے لیئے رکھ دیا جائے گا۔ انڈیا نے آواز کی رفتار سے تین گنا تیز اڑنے والے یہ مگ طیارے 1981 میں سویت یونین سے حاصل کیئے تھے۔ انڈیا نے ابتدائی طور پر دس مگ طیارے خریدے تھے اور اس سکوارڈن کا نام ہندو دیوتا کے نام پر ’گروڑ‘ رکھا تھا۔ ان طیاروں کو خفیہ مقام پر رکھا گیا تھا اور خبر رساں ادارے اے ایف پی نے یہ طیارے اڑانے والے ایک انڈین پائلٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ’ یہ بہترین طیارے تھے لیکن آج بھی ہمیں کھلے عام ان طیاروں کے اصل استعمال کے بارے میں بات کرنے کی اجازت نہیں۔ میں صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں متعدد بار اس طیارے میں ستّر ہزار فٹ کی بلندی پر گیا ہوں‘۔ مگ پچیس طیارے اب تک بننے والے جنگی طیاروں میں امریکی لاک ہیڈ ایس آر اکہتر طیاروں کے بعد تیز ترین طیارے بھی ہیں۔ انہیں 1960 میں امریکی فضائیہ کے ایکس بی ستّر طیاروں کے مقابلے میں ڈیزائن کیا گیا تھا اور انہیں مگ پچیس کے منظر عام پر آنے کے بعد امریکی فضائیہ نے مقابلے میں ایف پندرہ اور مشہورِ زمانہ ایف سولہ طیارے بنانے کا اعلان کیا تھا۔ | اسی بارے میں انڈین فضائیہ کے دو پائلٹ ہلاک18 March, 2006 | انڈیا بھارتی فضائی تاریخ کا بڑا سودا19 January, 2006 | انڈیا بھارت نےسب سے زیادہ اسلحہ خریدا 01 September, 2005 | انڈیا بھارتی فضائیہ میں ہوابازوں کی کمی04 August, 2005 | انڈیا بھارت روس مشترکہ طیاروں پر مذاکرات10 February, 2005 | انڈیا بھارتی فضائیہ کے دو جیگوار لاپتہ03 April, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||