بھارتی فضائیہ میں ہوابازوں کی کمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی فضائیہ کے بہت سے ہوا باز زیادہ رقم کی خاطر نجی کمپنیوں کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ائرفورس کے کئی پائلٹ نجی فضائی کمپنیوں میں چلے گئے ہیں لیکن اس سے ائرفورس کے کام کاج پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ ہندوستان میں شہری ہوا بازی کا شعبہ تیزی سے ترقی کی راہ پر ہے اور اچھے پائلٹوں کی کمی کے سبب سبکدوش سرکاری ہوابازوں کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔ انڈین ائر فورس کے بہت سے پائلٹ وقت سے پہلے ریٹائر ہوکر نجی کمپنیوں کے جہاز چلاتے ہیں۔ اس مسئلے پر وزیرِ دفاع پرنب مکھرجی کو لوک سبھا میں بیان دینا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ’ زیادہ تر پائلٹ انڈین ائرفورس میں مقررہ معیاد پوری کرنے کے بعد ہی دوسری کمپنیوں میں گئے ہیں اور ان کے جانے سے ائرفورس کے کام کاج میں کوئی خلل نہیں پڑا ہے‘۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں نجی شعبے کی فضائی کمپنیاں تیزی سے ترقی کر رہی ہیں اور اس برس کے آخر تک تقریبا ڈھائی سو سے زیادہ پائلٹوں کی ضرورت ہوگی۔ بھارت میں ایک ائرفورس کے پائلٹ کی تنخواہ پچیس سے چالیس ہزار روپے ماہانہ ہے جبکہ نجی کمپنیاں اپنے پائلٹ کو دو لاکھ روپے ماہانہ سے زیادہ تنخواہ دیتی ہیں اور اسکے علاوہ انہیں دیگر سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ اس بات کا خدشہ ہے کہ انڈین ائر فورس کے مزید پائلٹ قبل ازوقت سبکدوش ہوکر نجی کمپنیوں کا رخ کرسکتے ہیں۔ اصولی طور پر ایک فوجی پائلٹ کو بیس برس تک ائر فورس میں خدمت انجام دینی ہوتی ہے لیکن اگر پائلٹ وقت سے پہلے جاتے رہے تو ممکن ہے کہ انڈین ائر فورس کے کام کاج میں بھی خلل پڑے۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی فضائیہ اس معاملے سے نمٹنے کے لیے ریٹائرمنٹ کے اصول وضوابط میں کچھ اہم تبدیلیاں کرنے والی ہے تاکہ فوجی پائلٹ وقت سے پہلے ریٹائر ہونے کا بہانہ نہ کرسکیں۔ بھارت کو پائلٹوں کے ساتھ ساتھ مسافر جہازوں کی کمی کا بھی سامنا ہے اور نجی فضائی کمپنیوں نے پروازوں میں اضافے کے سبب تقریباً دو سو مزید طیارے خریدنے کا آرڈر دیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||