BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 November, 2004, 14:01 GMT 19:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فضائیہ: فیصلے پر حکومت کا غور

News image
عدالتی فیصلہ ائیر فورس کے دو افسروں کی درخواست پر کیا گیا ہے۔
ہندوستان کی حکومت نے دلی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت عدالت عالیہ نے فضائیہ کے چار علی اہلکاروں کی ترقی کو کالعدم قرار دیا تھا۔

وزیر دفاع پرناب مکھرجی نے کہا ہے کہ حکومت جلدی ہی مسلح افواج کا ایک ٹرائبیونل قائم کرے گی تاکہ فوجی تنازعات سول عدالتوں میں نہ جاسکیں۔

مسٹر مکھرجی نے کہا کہ ’ہم ہائی کورٹ کے اس فیصلے کا جائزہ لے رہے ہیں جس میں فضائیہ کے ترقی بورڈ کی سفارشات رد کر دی گئی ہیں اگر چہ بورڈ نے یہ سفارشات اس وقت کی ترقی پالیسی کے تحت کی تھیں۔‘

دلی کی ہائی کورٹ نے دو ایئر وائس مارشل ہریش مسند اور ٹی ایس چھتوال کی عزرداری کی سماعت کرتے ہوۓ فضائیہ کے چار ایئر مارشلوں کی ترقی روک دی تھی۔ ان چاروں اعلی اہلکاروں کو فروری 2003 میں ترقی دی گئی تھی۔

دونوں عرضی گزاروں کا کہنا تھا کہ ان کے بہترین کریئر کے باوجود انہیں ترقی نہیں دی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ ترقی بورڈ نے ان کے ساتھ امتیازی سلوک برتا ہے۔

عدالت نے فضائیہ کو حکم دیا ہے کہ وہ چار ہفتے کے اندر بورڈ کی میٹنگ بلاۓ اور نۓ طریقہ کار کے تحت سبھی چھ امید واروں کی کارکردگی کا جائزہ لے۔

عدالت نے اپنے حکم میں پرانے طریقہ کار کو کالعدم قرار دیا ہے جس کے تحت بورڈ کے ارکان کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ خود اپنے طور پر نمبر دینے کا اختیار تھا۔

جن دو امیدواروں کو ترقی دیں دی گئی تھی ان کا ذکر کر تے عدالت نے کہا ہے کہ یہ معاملہ واضع طور پر تقریق پسندی اور زیادتی کا ہے۔

عدالت نے اپنے اہم فیصلے میں کہا ہے فضائیہ میں کوئی نہ کوئی ضرور تھا جو عرضی گزاروں کی ترقی نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔

عدالت نے فضائیہ کے سربراہ پر نکتہ چینی کرتے ہوۓ کہا کہ انہوں نے غیر جانب داری اور انصاف کے ساتھ کام نہیں کیا اور اختیارات کا استعمال بد نیتی کے ساتھ کیا۔

عدالت کا یہ فیصلہ بہت اہمیت کا حامل ہے ۔عام طور پر سول عدالتیں فوج کے انتظامی اور اندرونی معاملات میں دخل نہیں دیتیں۔ یہ معاملہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس میں فضائیہ کے انتہائی اعلی اہلکار ملوث ہیں۔

صورتحال کی سنجیدگی کے پیش نظر حکومت جلد ہی افواج کا ایک ٹرائبیونل قائم کرنے جا رہی ہے۔ جہاں اس طرح کے معاملات نمٹاۓ جا سکیں اور صورتحال اتنی خراب نہ ہو کہ وہ فوج سے نکل کر سول انتظامیہ تک پہنچے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد