BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 January, 2006, 11:55 GMT 16:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارتی فضائی تاریخ کا بڑا سودا

فضائی کمپنی’جیٹ ائرویز‘
اس سودے کے نتیجے ميں ملکی پروازوں میں جیٹ ائرويز کا حصہ 50 فیصد سے زیادہ ہو جائے گا
بھارت کی سب سے بڑی نجی فضائی کمپنی’جیٹ ائر ویز‘ نے’ ائر سہارا‘ کو تیئس ارب روپے میں خرید لیا ہے۔

ہندوستان ميں نجی فضائی صنعت کی تاریخ کا سب سے بڑا سودا ہے۔

ممبئی میں ’جیٹ ائرویز‘ کے چیئرمین نریش گوئل نے صحافیوں کو بتایا کہ تیئس ارب کی خریداری کے اس سودے کا اثر ’جیٹ گروپ‘ کے مستقبل کے منصوبوں پر بالکل نہیں پڑے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ’سہارا‘ کی بین الاقوامی پروازوں کے لیے وہ حکومت سے اجازت ملنے کے بعد ہی کچھ طے کر سکيں گے۔

 بھارت کے فضائی بازار میں چالیس فی صد حصہ جیٹ ائرویز کا ہے جبکہ سہارا ائر لائن کا حصہ تیرہ فی صد تھا اور اب اس سودے کے نتیجے ميں ملکی پروازوں میں جیٹ ائرويز کا حصہ 50 فیصد سے زیادہ ہو جائے گا۔

اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’سہارا‘ کے کئی قرض داروں کو’جیٹ‘ کے کھاتے میں منتقل نہیں کیا جائے گا۔

’ائر سہارا‘ کے نائب صدر آلوک شرما نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ ’سہارا گروپ‘ نے اپنی مستقبل کی منصوبہ بندی کے تحت یہ فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ’سہارا گروپ کے ملازمین کے لیے کسی طرح کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ انہیں کہاں کام کرنا ہے اس کا فیصلہ وہ خود کريں گے‘۔ اطلاعات کے مطابق سہارا کے ملازمین نے اس سودے پر اعتراض کیا ہے اور پائلٹوں سمیت کئی ملازمین نے احتجاج کا اعلان بھی کر دیا ہے۔

فی الوقت ملک کے فضائی بازار میں چالیس فی صد حصہ جیٹ ائرویز کا ہے جبکہ سہارا ائر لائن کا حصہ 13 فی صد تھا اور اب اس سودے کے نتیجے ميں ملکی پروازوں میں جیٹ ائرويز کا حصہ 50 فیصد سے زیادہ ہو جائے گا۔ جیٹ ائرویز کی شروعات 1995 میں لندن کے ایک سابق’ٹریول ایجنٹ‘نریش گوئل نے کی تھی۔

نوّے کی دہائی میں بھارت میں’اوپن ائر پالیسی‘ کے نفاذ کے بعد نجی فضائی کمپنیوں نے اپنی جگہ بنانی شروع کی تھی جبکہ اس سے قبل صرف سرکاری ائرلائن کو ہی پروازوں کی اجازت دی گئی تھی۔ نجی کمپنیوں میں جیٹ اور سہارا ہی ائرلائن بازار میں اپنی پہچان بنا سکے اور آہستہ آہستہ عوام میں سرکاری پروازوں سے زیادہ نجی پروازوں پر بھروسہ پیدا ہو گیا۔

 اس سمجھوتے کے بعد آنے والے دنوں میں ایک قسم کی اجارہ داری قائم ہو جائے گی جو چھوٹی کمپنیوں کے لیے پریشانی کا سبب بن جائے گی‘
ماہر ہوابازی دیوسنگھ ساگر

اس سودے پر ہوا بازی کے ماہرین دیو ساگر سنگھ کا کہنا ہے کہ’اس سمجھوتے کے بعد آنے والے دنوں میں ایک قسم کی اجارہ داری قائم ہو جائے گی جو چھوٹی کمپنیوں کے لیے پریشانی کا سبب بن جائے گی‘۔ مسٹر سنگھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سے سرکاری فضائی کمپنی کو بھی خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس وقت جیٹ ائرویز کے پاس 42 طیارے ہیں اور اس کی روزانہ 271 پروازیں پرواز کر تی ہیں۔ حال ہی میں جیٹ ائرویز کو لندن، سنگاپور اور کوالالمپور کے لیے پروازوں کی اجازت ملی تھی جبکہ جیٹ ائرویز امریکہ کے لیے جلد ہی پرواز شروع کرنے والی ہے۔ اس سمجھوتے کے بعد جیٹ ائرویز اب ’سہارا‘ کے تقریباً 24 طیارے استعمال کر سکےگی اور ساتھ ہی حال ہی میں لندن پرواز کے لیے جو اجازت سہارا ائر لائن کو ملی تھی وہ اب جیٹ ائرویز کے اختیار میں آجائے گي۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد