سیاچن کے لیے پرائیویٹ پروازیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ایک پرائیویٹ کمپنی ’جیٹ ائرویز‘ نے دنیا کے سب سے اونچے محاذ جنگ سیاچن کےلیے پروازیں شروع کی ہیں۔ کسی بھی پرائیویٹ کمپنی کی یہ پہلی سروس ہے جوصرف فوجیوں کے لیے مخصوص ہے۔جیٹ ائرویز کی پہلی پرواز دلی سے سوا گھنٹے کی مسافت کے بعد سیاچن کے فوجی ایر بیس ’تھوئیز‘ پر اتری۔ اس فلائٹ پر تقریبا ستر فوجی سوار تھے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ فوج نے سیاچن جانے کے لیے کسی پرائیویٹ پرواز کا استعمال کیا ہے۔ سیاچن میں آرمی آپریشن کے جنرل ڈائریکٹر پی کے سنگھ کا کہنا تھا کہ سیاچن گلیشیئر جیسے علاقوں پر پرواز کے لیے شہری پائلٹوں کی ٹرینگ کی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ اسی لیے جیٹ ایرویز نے خصوصی ٹریننگ کا انتظام کیا تھا۔ اس خطے میں اونچی نیچی پہاڑیاں ہیں اور پرپیچ فضائی راستوں میں پائلٹ کے لیے طیارے کو کنٹرول کرنا ایک چیلنج ہے‘۔ سیاچن سے کسی بھی فوجی کو شمالی سرینگر کے قریبی ریلوے اسٹیشن یا ائرپورٹ پر جانے کے لیے تقریبا دس روز درکار ہوتے ہیں۔ یہ راستے مشکل ہی نہیں خطرناک بھی ہیں۔ اس میں وقت اور پیسے دونوں ضائع ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں یہ نئی فضائی سروس سیاچن کے فوجیوں کے لیے کافی مددگار ثابت ہوگي۔ ایک فوجی جوان کا کہنا تھا کہ اب گھر آنے جانے کا سفر آسان ہوجائیگا۔ اس سے پہلے یہاں سے وہاں جانے میں پیسے اور وقت دونوں ضائع ہوتے تھے۔ اس موقع پر جیٹ ائر ویز کے نایب صدر آئی کے ورما نے کہا کہ’ایک آرگنائزیشن کی حیثیت سے صرف تجارتی نکتہ نظر سے نہیں بلکہ قوم کی خدمت کے لیے بھی ہم اپنا دائرہ وسیع کرنا چاہتے ہیں‘۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سیاچن کی برف پوش پہاڑیاں دنیا کا سب سے اونچا محاذ جنگ ہے۔ دو عشرے قبل دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے سبب جھڑپیں ہوئی تھیں تب سے ساڑھے پانچ ہزار سے زیادہ میٹر اونچی ان پہاڑیوں پر دونوں جانب کی فوجیں تعینات ہیں۔ ان پہاڑیوں پر باہمی تصادم کے سبب دونوں جانب کے فوجی کم مارے گئے ہیں جبکہ سخت سردی اور خراب موسم کے سبب ہلاکتیں زيادہ ہوتی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||