چین، ثقافتی انقلاب کی یادیں دھندلی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منگل کو چین کے ثقافتی انقلاب کو چالیس برس پورے ہوگئے ہیں۔ چالیس برس پہلے یہ بیسویں صدی کے سب سے بڑے معاشرتی انقلاب کی ابتدا تھی۔ اس انقلاب کی ابتدا سولہ مئی 1966 سے ہوئی تھی جب چینی رہنما ماؤ زے تُنگ نے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم جلد ہی یہ کوشش افراتفری میں تبدیل ہوگئی۔ ٹھیک چالیس برس پہلے آج ہی کے دن چینی رہنماماؤ زے تُنگ نے نوجوانوں سے کہا تھا کہ وہ چینی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت کو برطرف کر دیں۔ طلباء اور ملازمین نے اس مہم کو مضبوط کرنے کے لیئے ’ریڈ گارڈز‘ نامی گروپ بنالیئے تھے۔ جس کے بعد پرتشدد واقعات کے سلسلے کے نتیجے میں ہزاروں ہلاکتیں ہوئیں اور چین میں ایسا عدم استحکام پیدا ہوا جو اگلے دس برس جاری رہا۔ یہ ایسا انقلاب تھا جس نے چینی معاشرے کو توڑ کر رکھ دیا اور جس کی یادیں آج بھی کئی لوگوں کے لیئے ایک ڈراؤنے خواب کی طرح ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ چین میں آج لوگ ثقافتی انقلاب کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ ہر سال لاکھوں سیاح چین کے تائنامین سکوائر آتے ہیں جہاں ماؤ زے تُنگ کی یاد گار کی وہ سنہری چھتیں اور سرخ دیواریں ہیں جو اس رہنما کی یاد میں تعمیر کی گئی تھیں۔حال ہی میں ماؤ زے تُنگ کی کی تیسویں برسی کے موقع پر تبت میں 35 ٹن وزنی یادگار بھی تعمیر کی گئی ہے۔ چین میں بے شمار لوگ ایسے بھی ہیں جو اس انقلاب کے پر تشدد دن آج تک نہیں بھلا پائے ہیں۔
دائی کنگ نامی ایک ادیب خاتون بھی ایسے ہی لوگوں میں سے ایک ہیں جن کے ایک رشتہ دار کو ماؤ زے تُنگ کے ’ریڈ گارڈز‘ نے زندہ دفن کردیا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ ’جو کچھ ہوا وہ میں کبھی نہیں بھول سکتی‘۔ وہ چاہتی ہیں کہ چین کی حکمراں کمیونسٹ پارٹی اس سلسلے میں پبلک انکوائری شروع کرے۔ ’ جب ہمیں اس وقت کی کہانیاں کسی سینسر کے بغیر بیان کرنے کی آزادی دی جائے گی صرف تب ہی ہم اصل حقائق جان سکیں گے‘۔ لیکن شاید ایسا ہونے میں وقت لگے کیونکہ حکام کے لیئے یہ انقلاب ایک دھچکا تھا، ایسا دھچکا جس میں انہوں نے چینی معاشرے پر اپنا کنٹرول کھو دیا تھا۔ جب ہی سے اس موضوع پر عوامی طور پر بات چیت کرنے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔
چین میں ہر وہ شخص جو اس انقلاب کے دور سے گزرا ہے، ماضی کے حالات کا تجزیہ کرنا چاہتا ہے۔ ہو جنگتیان اوپرا میں کام کرنے والے ایک معروف موسیقار ہیں جو اب نیو یارک میں کام کرتے ہیں تاہم انقلاب کے دور میں وہ چین میں تھے جب کلاسیکی موسیقی کا تعلق ’سرمایہ کار‘ قوتوں سے جوڑا جاتا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے پیانو کے استاد کو جیل میں ڈال دیا گیا جبکہ ان کے موسیقار والدین نے ایسے ہی ردعمل کے ڈر سے اپنے موسیقی کے ریکارڈ تباہ کرڈالے اور کئی ساتھیوں نے خود کشی کرلی۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ ماضی کی باتیں ہیں اور وہ مستقبل پر نظر رکھنا چاہتے ہیں۔ چین میں ایک پوری نسل انقلاب کے بعد پیدا ہوئی اور پروان چڑھ رہی ہے۔ بیجنگ یونیورسٹی اگرچہ انقلاب کے دنوں میں انقلابی کارروائیوں میں سرگرم رہی ہے لیکن اب یہاں موجود طلباء اپنے ذہنوں کو ان باتوں سے ہٹا کر اپنے مستقل کو بہتر بنانا چاہتےہیں۔ ایک طالبہ شرلی یومین کہتی ہیں کہ اب چین میں کوئی اور ثقافتی انقلاب نہیں آسکتا۔ چین نے اپنی معیشت کے دووازے دنیا پر کھول دیئے ہیں اور اس کی معیشت تیزی سے پھل پھول رہی ہے۔ طلباء کا کہنا ہے کہ اب لوگ ایسا مستقبل چاہتے ہیں جس میں آرام دہ زندگی اور اچھی ملازمتوں کے مواقع ہوں۔ اس نئی نسل کے لیئے ثقافتی انقلاب بے معنی ہے۔ | اسی بارے میں ’رف جسٹس‘ نہ گائیں: چینی حکام08 April, 2006 | فن فنکار چین کاعروج: اقتصادی اثرات09 April, 2006 | قلم اور کالم چین: پہلا عالمی بدھ مت فورم 13 April, 2006 | آس پاس چین ترقی کی رفتار سے پریشان 16 April, 2006 | آس پاس چین اور آسٹریلیا میں یورینیم معاہدہ 03 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||