’رف جسٹس‘ نہ گائیں: چینی حکام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چینی حکام نے مشہور میوزک بینڈ رولنگ سٹون سے کہا ہے کہ جب وہ شنگھائی میں اپنے فن کا مظاہرہ کریں تو وہ اپنے پانچ گانے نہ گائیں۔ اس سے پہلے جب رولنگ سٹون نے سن دو ہزار تین میں چین آنا تھا تو انہیں ان کے چار نغمے گانے سے منع کر دیا گیا تھا، اس طرح اس مرتبہ سنسر کیے جانے والے گانوں میں ایک کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس پابندی پر تبصرہ کرتے ہوئے بینڈ کے مرکزی سنگر سر مِک جیگر نے کہا کہ وہ چینی حکام کی طرف سے گانے سنسر کیے جانے پر پریشان نہیں کیونکہ انہیں توقع تھی کہ ایسا ہو گا۔ ’خوش قسمتی سے ہمارے چار سو زائد ایسے گانے ہیں جو ہم گا سکتے ہیں اس لیے یہ کوئی بڑی بات نہیں۔‘ سن دو ہزار تین میں رولنگ سٹون کا چین کا دورہ ’سار وائرس‘ کی وبا پھیلنے کی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا تھا۔ ہفتہ کے روز شنگھائی میں ہونے والے کنسرٹ سے پہلے چینی حکام نے جن پانچ گانوں پر سنسر کی پابندی لگائی ہے ان میں براؤن شوگر، ہانکی ٹانک وومن، بیسٹ آف برڈن اور ’لیٹس سپنڈ دی نائٹ ٹوگیدر‘ شامل ہیں۔ ان گانوں پر پابندی لگانے کی وجہ ان کے معنی خیز اشعار ہیں۔ حکام نے رولنگ سٹون سے جو پانچواں نغمہ نہ گانے کی درخواست کی ہے وہ مبینہ طور پر بینڈ کی البم ’بِگر بینگ‘ سے لیا گیا ’رف جسٹس‘ (کند انصاف) ہے۔ رولنگ سٹون کو چین میں وہ مقبولیت نہیں حاصل جو باقی دنیا میں ہے، اس لیے توقع یہی ہے کہ انیں سننے کے لیے آنے والوں میں زیادہ تعداد غیر چینی سامعین کی ہو گی۔ اپنے تبصرے کے دوران سرمِک جیگر نے تمسخرانہ انداز میں مزید کہا ’ مجھے خوشی ہے کہ (چین کی) وزارت کلچر غیر ملکی بینکاروں اور ان کی گرل فرینڈز کی اخلاقیات کو بچا رہی ہے کیونکہ ہمارے کنسرٹ میں تو انہی لوگوں نے آنا ہے۔‘ | اسی بارے میں آؤ مگر ڈھانپ کے01 June, 2004 | فن فنکار انٹرنیٹ: موسیقی کے ستاروں کی امید 13 September, 2005 | فن فنکار چین میں آج عالمی مقابلۂ حسن ہوگا06 December, 2003 | فن فنکار سب سے پرانی چھپی ہوئی کتاب09 May, 2004 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||