’اسلحے کی غیرذمہ دارانہ فروخت‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایمنسٹی انٹرنیشنل نےچین پر الزام لگایا ہے کہ وہ غیر ذمہ دار اسلحہ فروش ملک ہے اور ایسے ملکوں کو اسلحہ بیچ رہا جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ ایمنٹسی انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اسلحہ فروشی میں چین کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے سوڈان، نیپال اور برما جیسے ملکوں میں تنازعوں کو ہوا مل رہی ہے۔ ایمنٹسی انٹرنیشنل نے چین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسلحہ کی فروخت کے بارے میں مکمل معلومات کو منظر عام پر لائے۔ البتہ چینی حکام کا موقف ہے کہ چین اسلحہ کی فروخت میں انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا ہے۔ایمنٹسی انٹرنیشنل نے چین کے ان دعوؤں کی نفی کی ہے۔ ایمنٹسی انٹرنشنل کی رپورٹ کی مصنف ہیلن ہیوز نے چین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے ملک کو ہرگز اسلحہ فروخت نہ کرے جہاں اس اسلحہ کو انسانی حقوق کی پامالی کے لیے استعمال کیئے جانے کا اعتمال ہو۔ رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ چین نے اسلحہ سے بھر ے دو سو ٹرک سوڈان بھیجے ہیں۔ اس کے علاوہ اس نے ایسے حکمرانوں کو اسلحہ فراہم کیا ہے جو انسانی حقوق کی ورزیوں کے حوالے سےجانے جاتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین نے نیپال کی سکیورٹی فورسز کو ایسے وقت میں رائفلیں اور گرینیڈ بیچے جب عوام مطلعق العنان بادشاہ کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ چین سالانہ ایک ارب ڈالر کا اسلحہ برآمد کرتا ہے اور اکثر اوقات وہ خام مال کے بدلے بھی اسلحہ فروخت کر دیتا ہے۔ چین نے ایمنٹسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پرابھی کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ | اسی بارے میں اسلحہ کی غیرذمہ دارانہ فروخت جاری22 June, 2005 | آس پاس ’انڈیا کو بھی ہتھیار بیچنا چاہتے ہیں‘14 December, 2004 | انڈیا جی-8 اوراسلحے کی خریدوفروخت22 June, 2005 | Debate چینی معیشت کی غیرمتوقع ترقی03 January, 2006 | آس پاس چین میں سو ٹن زہریلا مادہ بہہ گیا25 November, 2005 | آس پاس وجہ ہتھیار نہیں تھے:رمزفیلڈ10.07.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||