چین میں سو ٹن زہریلا مادہ بہہ گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین سے آنے والی اطلاعات کے مطابق ایک پلانٹ پر ہونے والے دھماکے کی وجہ سے تقریباً دس ٹینکروں میں لائے جانے والے کمیائی کے برابر کا زہریلا مادہ بارہ روز پہلے سونگوا دریا میں بہایا گیا تھا۔ چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں کے مطابق جیلن میں ایک فیکٹری میں ہونے والے دھماکے کی وجہ سے تقریباً 100 ٹن زہریلا مادہ دریائے سونگوا میں داخل ہوگیا تھا اور خارج ہونے والا یہ کیمیکل ہاربن شہر سے گزر رہا ہے۔ تین روز سے شہر کا پانی بند کیا ہوا ہے اور اطلاعات ہیں کہ اتوار کو پانی کو نلکوں میں دوبارہ بحال کر دیا جائے گا۔ ہاربن کی آبادی تقریباً چالیس لاکھ ہے۔ حکام کا خیال ہے کہ زہریلا ’مادہ بینزین‘ آہستہ آہستہ روس کی طرف جاتے جاتے اپنی تاثیر کھو دے گا۔ زہریلا مادہ دو ہفتوں تک روس پہنچ جائے گا۔ چین کی سب سے بڑی تیل کمپنیوں میں سے ایک چائنا پیٹرولیم کارپوریشن کے ڈپٹی جنرل مینیجر نے ہاربن کے لوگوں سے اس زہریلے مادے کے خارج ہونے پر معذرت کی ہے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||