BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 09 March, 2006, 14:47 GMT 19:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ اپنے گریبان میں جھانکے: چین
چین کا امریکہ کو جواب
چین نے ایک جوابی رپورٹ جاری کی ہے۔
انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر امریکہ کی طرف سے کی جانے والی تنقید کا جواب چین نے امریکی دستاویزات کے حوالے سے امریکہ میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ریکارڈ مرتب کر کے دیا ہے۔

امریکہ نے انسانی حقوق کی اپنی سالانہ رپورٹ میں چین کو انسانی حقوق کی منظم پامالی کرنے والا سب سے بڑا ’مجرم‘ قرار دیا تھا۔

اس کے جواب میں چین نے کہا ہے کہ امریکہ

 امریکہ نے ہمیشہ جمہوریت کے علمبردار ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور اس جمہوریت کو باقی ملکوں پر بھی مسلط کرنے کی کوشش کی ہے لیکن امریکی جمہوریت ہمیشہ سے ہی امیروں کے لیئے تھی اور یہ امیروں کا کھیل ہے۔
چینی رپورٹ
کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے اور امریکہ میں ہونے والی قتل کی وارداتوں اور جیلوں قیدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر نظر ڈالنی چاہیے۔

چین نے ہمیشہ ہی امریکی کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کیا ہے لیکن اس مرتبہ چین کی طرف سے سخت جواب نے چین کے صدر ہو جن تاؤ کے اگلے ماہ ہونے والے دورے کی وجہ سے خصوصی اہمیت اختیار کر لی ہے۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے کہا ہے کہ چینی کابینہ اور اسٹیٹ کونسل کی طرف سے جاری ہونے والی رپورٹ میں امریکہ کے اندر اور باہر ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے سینکڑوں واقعات کو درج کیا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی دفتر خارجہ کی طرف سے جاری کی جانے والی اس رپورٹ میں ایک سو نوے ملکوں میں ہونے والی انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندھی کی گئی تھی لیکن امریکہ میں ہونے والی خلاف ورزیوں کو کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔

 امریکہ کے نشریاتی ادارے نیشنل بارڈکاسٹنگ کمپنی نے تیرہ دسمبر کی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکہ کا دفاعی ادارہ عراق جنگ کی مخالفت کرنے والے امریکی شہریوں کے کوائف خفیہ طور پر جمع کرتا رہا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ امریکہ نے ہمیشہ جمہوریت کے علمبردار ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور اس جمہوریت کو باقی ملکوں پر بھی مسلط کرنے کی کوشش کی ہے لیکن امریکی جمہوریت ہمیشہ سے ہی امیروں کے لیئے تھی اور یہ امیروں کا کھیل ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکہ نے آٹھ مارچ کو ایک مرتبہ پھر دنیا کے انسانی حقوق کا جج بن کر انسانی حقوق کی عالمی رپورٹ جاری کی۔

اس رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکہ میں عام لوگ عدم تحفظ کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔ اور امریکہ میں امن و اماں کا نظام اکثر پرتشدد جرائم کا شکار رہتا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ نے کہا کہ ہر سال امریکہ میں پچاس ہزار خود کشیاں یا قتل ہوتے ہیں۔

امریکہ کے جسٹس ڈپارٹمنٹ نے پچیس ستمبر کو ایک رپورٹ میں کہا کہ سن دو ہزار چار میں امریکہ میں اکاون لاکھ بیاسی ہزار چھ سو ستر پر تشدد جرائم کی وارداتیں ہوئیں۔

امریکہ کے خفیہ ادارے ایف بی آئی کے مطابق سن دوہزار پانچ کے پہلے چھ مہینوں میں سن دوہزار چار کی بنسبت امریکہ میں قتل کی وارداتوں میں دو عشاریہ چار فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

امریکہ کے نشریاتی ادارے نیشنل بارڈکاسٹنگ کمپنی نے تیرہ دسمبر کی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکہ کا دفاعی ادارہ عراق جنگ کی مخالفت کرنے والے امریکی شہریوں کے کوائف خفیہ طور پر جمع کرتا رہا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد