پیوند کاری کیلئے قیدیوں کے اعضاء | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیوندکاری کے ماہر برطانوی سرجنوں نے چین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ موت کی سزا پانے والے ہزاروں قیدیوں کے اعضاء پیوندکاری کے لیئے ہر سال بیچتا ہے۔ بدھ کو جاری کیئے گئے ایک بیان میں برٹش ٹرانسپلانٹ سوسائٹی نے اس عمل کی مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔ یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب ایک ہفتہ قبل ہی چینی حکام نے عوامی طور پر ان الزامات کی تردید کی ہے۔مارچ میں چین نے کہا تھا کہ وہ جولائی سے انسانی اعضا کی فروخت بند کردے گا۔ برٹش ٹرانسپلانٹ سوسائٹی نے کہا ہے کہ بڑھتے ہوئے شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ موت کی سزا پانے والے ہزاروں قیدیوں کے اعضاء ان کی مرضی کے بغیر نکال لیئے جاتے ہیں۔ سوسائٹی کے پروفیسر سٹیفن وگمور نے بتایا ہے کہ جن مریضوں کو پیوندکاری کی ضرورت ہوتی ہے ان کے ٹشو عطیہ کرنے والے کے ٹشو سے میچ کرنا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ اور چین میں جس رفتار سے میچنگ ٹشو والے افراد مل جاتے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قیدوں کو سزائے موت کے لیئے چنا جاتا ہے۔ یعنی جس قیدی کے ٹشو مریض سے مل جائیں اسے پہلے سزائے موت دے دی جاتی ہے۔ گزشتہ ہفتے چین کے شعبہ صحت کے ایک اہلکار نے کہا تھا کہ کبھی کبھار قیدیوں کے اعضاء استعمال کیئے جاتے ہیں مگر اس میں ان کی مرضی شامل ہوتی ہے۔ تاہم حکام پر الزامات کا سلسلہ گزشتہ سات سال سے جاری ہے۔ پروفیسر وگمور کا کہنا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس عمل کے خلاف اقدامات کیئے جائیں۔ پیوندکاری کے لیئے دیگر ملکوں سے آنے والے سیاحوں کی دلچسپی کے باعث اب انسانی اعضاء کا کاروبار مزید منافع بخش ہوتا جارہا ہے۔ برطانیہ ، جاپان اور کوریا سے ایسے بے شمار مریض چین آتے ہیں جنہیں پیوندکاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ چین میں سزائے موت کے عمل کو جس قدر خفیہ رکھا جاتا ہے اس سے حقائق تک پہنچنا مشکل کام ہے۔ چینی حکام نے حال ہی میں ایسے اقدامات کا اعلان کیا ہے جس سے پیوندکاری کے قوائد و ضوابط سخت ہوجائیں گے۔ پیوندکاری کے لیئے عطیہ دینے والے کی تحریری طور پر مرضی حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ تاہم اعضاء کا کاروبار منافع بخش ہے اور کئی کا کہنا ہے کہ نئے ضوابط کے فعال ہونے کا انحصار اس امر پر ہے کہ انہیں کس طرح لاگو کیا جاتا ہے۔ | اسی بارے میں ’رف جسٹس‘ نہ گائیں: چینی حکام08 April, 2006 | فن فنکار چین کاعروج: اقتصادی اثرات09 April, 2006 | قلم اور کالم چین: پہلا عالمی بدھ مت فورم 13 April, 2006 | آس پاس چین ترقی کی رفتار سے پریشان 16 April, 2006 | آس پاس چین اور آسٹریلیا میں یورینیم معاہدہ 03 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||