چینی صدر دلی میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین کے صدر ہوجنتاؤ اور بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کے درمیان دلی میں بات چیت شروع ہوگئی ہے۔ اس سے قبل راشٹرپتی بھون میں چینی صدر کا شاندار استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر صدر اے پی جے عبد الکلام کے ساتھ وزیر اعظم منموہن سنگھ اور انکے کابینی رفقاء بھی موجود تھے۔ راشٹرپتی بھون میں استقبالیہ تقریب کے بعد صدر ہو جنتاؤ مہتما گاندھی کی سمادھی پرگیے اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ گزشتہ دس برس میں کسی چینی سربراہ مملکت کا ہندوستان کا یہ پہلا دورہ ہے اور دونوں ہی ملک اس دورے کو بہت اہمیت دے رہے ہیں۔ چار روزہ اس دورے میں صدر ہو جنتاؤ وزیر اعظم منموہن سنگھ سے بات چیت کے ساتھ ساتھ دلی اور ممبئی میں ملک کے صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں سے خطاب کریں گے۔ دونوں ملکوں کے تعلقات پر پچاس برس سے سرحدی تنازعات کا سایہ رہا ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں دونوں ملکوں کی قیادت نے سرحدی تنازعے کے پس منظر میں رکھ کر کامیابی کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات پر توجہ مرکوز کی ہے۔ ہندوستان سرحدی تنازعے اور پاکستان سےگہرے تعلقات کے سبب چین کو ہمیشہ شک کی نظر سے دیکھتا رہا ہے لیکن اب اس پالیسی میں واضح طور پر تبدیلی نظر آرہی ہے۔ چین کے ماہرین گیس پائپ لائن اور شاہراہوں کی تعمیر سمیت ہندوستان کے کم ازکم گیارہ بڑے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ لیکن سلامتی کے خدشات کے نام پر اب بھی چین کو بندرگاہوں کی تعمیر، شمال مشرقی علاقوں اور اور مواصلات جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ لیکن ہندوستان کی سرکاری اور نجی کمپنیاں مینیو فیکچرنگ ، گیس پائپ لائن اور تعمیرات میں چینی ماہرین کی مدد چاہتی ہیں ۔ ہندوستانی اہلکاروں کے مطابق چینی صدر کے قیام کے دوران کم از کم گیارہ معاہدوں اور مفاہمت کے مسودوں پر دستخط کیے جائیں گے ان میں سے بیشتر کا تعلق تجارت اور سرمایہ کاری سے ہو گا۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چینی صدر کے اس دورے سےکسی بڑے اعلان کی توقع نہیں کی جا سکتی لیکن ہندوستان تبت کو چین کا حصہ مان کر اور چین باضابطہ طور پر اروناچل کو ہندوستان کا علاقہ قرار دے کر سرحدی تنازعے کے سلسلے میں ایک دوسرے کو رعایت دے سکتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان 1962 میں جنگ کے بعد سے صورتحال پرسکون رہی ہے اور سرحدی تنازعے کے باوجود سرحد پر عموما کشیدگی نہیں رہی ہے ۔ چین اقتصادی ترقی کی دوڑ میں ہندوستان سے کافی آگے نکل چکا ہے۔ ہندوستان کے پالیسی ساز اب اس تصور پر عمل کر رہے ہیں کہ چین جیسی ترقی کے لیے اسے ٹکراو کو پس منظر میں ڈالنا ہو گا اور مصالحت کے لیے مشترکہ مفاد کے راستے تلاش کرنے ہونگے۔ | اسی بارے میں بھارت چین، مشترکہ بحری مشقیں14 November, 2003 | صفحۂ اول بھارت چین، مشترکہ بحری مشقیں14 November, 2003 | صفحۂ اول بھارت۔چین تعلقات کاجنوبی ایشیا پراثر11 April, 2005 | Debate بھارت۔چین تعلقات کاجنوبی ایشیا پراثر11 April, 2005 | Debate بھارت میں اب چینی طرز کے تجارتی زون10 May, 2005 | انڈیا بھارت میں اب چینی طرز کے تجارتی زون10 May, 2005 | انڈیا چین اور انڈیا کی ترقی: مقابلہ آسان نہیں23 July, 2006 | انڈیا چین اور انڈیا کی ترقی: مقابلہ آسان نہیں23 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||