| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت چین، مشترکہ بحری مشقیں
بھارت اور چین نے تاریخ میں پہلی مرتبہ مشترکہ بحری مشقیں شروع کی ہیں جو دونوں ممالک کے تعلقات میں گرمجوشی کی عکاس ہیں۔ یہ ’سرچ اور ریسکیو‘ مشقیں شنگھائی کے قریب کی جارہی ہیں۔ پانچ گھنٹے جاری رہنے والی ان مشقوں میں تین بھارتی جنگی جہاز، لڑاکا طیارے اور ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔ بھارت اور چین نے سن انیس سو باسٹھ میں ایک مختصر جنگ بھی لڑی ہے تاہم اب ان کے تعلقات بہتری کی طرف مائل ہیں اور دونوں ممالک تجارتی روابط بڑھانے پر بھی غور کررہے ہیں۔ بھارتی بحریہ کے ً کمانڈر کےاے بوپانا کا کہنا ہے کہ یہ آغاز ہے، تعلقات مزید بہتری کی طرف جائیں گے۔ بھارت کی وزارتِ دفاع کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان مشقوں کا مقصد بحری جہاز کے ذریعے کی جانے والی تجارت کو محفوظ بنانا اور سمندر میں تلاش اور دفاع کے عمل کو بہتر بنانا ہے۔ چینی بحریہ تاریخ میں دوسری دفعہ کسی اور ملک کے ساتھ مشترکہ مشقیں کررہی ہے۔ کچھ عرصہ قبل چین نے پاکستانی بحریہ کے ساتھ مشترکہ مشقیں کی تھیں۔ بھارت اور چین اپنے سرحدی تنازعات ختم کرکے سرمایہ کاری کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ بھارتی وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپئی نے اس ہفتے کے آغاز پر چین کا دورہ کیا تھا اور چینی رہنماؤں سے مذاکرات بھی کئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||